
تحریر: سید جواد حسین رضوی
ہر چیز کی طرح قربانی کی روح بھی فراموش ہو چکی ہے، قربانی محض رسم بن چکی ہے۔ لوگ قربانی اس رسم کو پوری کرنے کیلئے کرتے ہیں، ورنہ پڑوسی کیا کہیں گے، رشتہ دار کیا کہیں گے، بچے دیگر بچوں کے سامنے شرمسار ہوں گے کہ ہم نے قربانی نہیں کی، اگر کسی نے بڑا جانور لیا ہے تو لوگ کیا کہیں گے کہ ہمارا جانور چھوٹا ہے وغیرہ وغیرہ۔
جب یہ صورتحال ہوگی تو چھری پھیر کر محض رسم پوری ہوگی، اور اس کے بعد فریج بھر لئے جائیں گے۔ اسی لئے ضروری ہے کہ ہم لوگوں کو یہ سمجھائیں کہ یہ محض رسم نہیں ہے، اور نہ یہ واجب ہے، آپ نہ بھی کریں تو حرج نہیں ہے۔ اور اگر کریں تو صحیح معرفت کے ساتھ کریں، ورنہ محض چھری پھیرنا اور فریج بھرنا کسی کام کا نہیں۔ اس سے محلّے میں یا خاندان میں آپ کی گردن تو اکڑ جائے گی کہ بڑا جانور ذبح کیا ہے، لیکن اللہ کی نگاہوں میں اس کی وقعت نہیں۔
شارع نے آپ کو قربانی کا ایک حصّہ خود رکھنے کا ضرور کہا ہے، لیکن بہتر ہے تمام حصّوں کو مکس کر کے برابر تقسیم کریں، اپنے پڑوسیوں کو بھی دیں، رشتہ داروں کو بھی دیں، دوستوں کو بھی دیں، مستحقین اور نادار افراد کو بھی دیں۔
علاوہ ازیں سب سے اہم بات ابراہیم(ع) کی سنت پر عمل کریں۔ اور کیا آپ جانتے ہیں کہ ابراھیم(ع) کی اصل سنت کیا تھی؟
//توحید پر عمل اور شرک سے بیزاری//
قربانی کا حقیقی مفہوم بھی یہی تعلیم ہے کہ اللہ کے سوا کوئی مؤثر نہیں، قربانی دینی ہے یا بھینٹ چڑھانا ہے یا بلیدان دینا ہے، تو کسی اور کیلئے نہیں مگر صرف خداوند متعال کیلئے۔ مندرجہ ذیل آیات ابراہیم(ع) کی اس سنت پر دلالت کرتے ہیں؛
إِنِّي وَجَّهْتُ وَجْهِيَ لِلَّذِي فَطَرَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ حَنِيفًا ۖ وَمَا أَنَا مِنَ الْمُشْرِكِينَ (انعام: 79)
میں یکسو ہو کر اپنے تئیں اسی ذات کی طرف متوجہ ہوا جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا ہے اور میں مشرکوں میں سے نہیں ہوں۔
قُلْ إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ (انعام: 162)
کہہ دو کہ میری نماز اور میری عبادت اور میرا جینا اور میرا مرنا سب خدائے رب العالمین ہی کے لیے ہے۔
لَا شَرِيكَ لَهُ ۖ وَبِذَٰلِكَ أُمِرْتُ وَأَنَا أَوَّلُ الْمُسْلِمِينَ (انعام: 163)
اس (ذات) کا کوئی شریک نہیں اور مجھ کو اسی (توحید) کا حکم ملا ہے اور میں سب سے اول فرمانبردار ہوں۔
یہ وہ آیات ہیں جو قربانی کے موقع پر پڑھی جاتی ہیں، چنانچہ مروی ہے کہ رسول اللہ(ص) قربانی کے موقع پر یہ آیات پڑھتے تھے۔ اس کے علاوہ ہر نماز کے ابتدا میں بھی ان آيات کو پڑھنے کی تاکید وارد ہوئی ہے جیسا کہ شیخ کلینی نے اصول کافی کی تیسری جلد میں صفحہ نمبر 311 پر امام صادق(ع) سے حدیث نقل کی جس میں نماز سے پہلے انہی تین آيات کے پڑھنے کا حکم ہے۔ یہ حدیث شیخ کلینی نے اس صحیح سند سے نقل کی ہے؛
عَلِیُّ بْنُ إِبْرَاهِیمَ بْنِ هَاشِمٍ عَنْ أَبِیهِ عَنِ ابْنِ أَبِی عُمَیْرٍ عَنْ حَمَّادِ بْنِ عُثْمَانَ عَنِ الْحَلَبِیِّ عَنْ أَبِی عَبْدِ اللَّهِ ع
لہذا ثابت یہ ہوا کہ ہماری ہر نماز، ہماری ہر قربانی، اور ہمارا جینا مرنا صرف اور صرف اللہ تعالی کیلئے ہے، اور یہی سنت ابراہیمی(ع) ہے جس پر ہر مسلمان کو عمل کرنا چاھئے اور اس کی تجدید ہر عیدالاضحی پر ہوتی ہے۔ مگر افسوس ہم قربانی کی صحیح روح سے ناآشنا ہیں جس کی وجہ سے ہم اللہ کی زمین پر فقط خون بہانے کے مرتکب ہوتے ہیں۔
والسلام علی من اتبع الھدی


































