Sun Oct 11, 2026

آئی سی سی نے امریکی پابندیاں مسترد کر دیں امریکا نے عالمی فوجداری عدالت پر پابندیاں عائد کردیں امریکی حکام تہذیبی جنگ کا بیانیہ بنانے سے قبل ماضی کے واقعات کا مطالعہ کریں، محسن رضائی ٹرمپ نے ایران سے جنگ چھیڑ کر امریکا کو رسوا کیا، امریکی سینیٹر گلگت بلتستان کے وسائل پر کسی بیرونی طاقت کو اثر انداز نہیں ہونے دیں گے، مرکزی انجمن امامیہ ٹرمپ کی پھر رسوائی، امن کا نوبل انعام انسانی حقوق کی وکیل ناوی پلے کے نام آبنائے ہرمز میں ایل پی جی گیس بردار جہاز پر حملہ، آگ لگ گئی پاکستان ہر خطرے کے مقابلے میں سعودی عرب کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑا رہے گا، وزیراعظم سعودی عرب انصار اللہ کے خلاف جنگ میں ایک بار پھر ماضی کے دلدل میں داخل ہو چکا ہے، نیویارک ٹائمز طویل جنگ کیلئے اسلحے کی وافر پیداواری صلاحیت موجود ہے، ترجمان ایرانی وزارت دفاع مکہ معاہدہ ، سعودی عرب کا دفاع کیا جائے گا: ترجمان پاک فوج آبنائے ہرمز میں کسی بیرونی طاقت کو مداخلت کا حق نہیں، جنرل احمد وحیدی حالیہ جنگوں میں فورسز کا امن و امان قائم رکھنے میں کردار بے مثال رہا، ولی امر مسلمین ترکیہ کا فوجی دستے سعودیہ بھیجنے سے انکار، مکہ معاہدہ پارلیمنٹ میں لایا جائیگا، وزیرخارجہ انصار اللہ کے حملے میں سعودی طیارہ تباہ

روزانہ کی خبریں

یمنی حکام کی جانب سے سخت انتباہ

تحریر: سید رضی عمادی

یمن کے خلاف امریکہ اور برطانیہ کے حالیہ حملوں کے خلاف عوام کی جانب سے وسیع ردعمل اور یمنی حکام کی جانب سے سخت انتباہ سامنے آرہا ہے۔ امریکہ اور انگلستان نے یمنیوں پر جو فضائی اور سمندری حملے کئے ہیں، ان میں یمنی فوج سے وابستہ 16 مراکز میں 60 اہداف کو نشانہ بنایا گیا اور اس حملے میں 100 سے زیادہ میزائلوں کا استعمال کیا گیا۔ امریکہ اور انگلینڈ نے صنعاء، حدیدہ، تعز، حجہ اور صعدہ صوبوں کو میزائلوں سے نشانہ بنایا۔ ان حملوں میں یمنی مسلح افواج کے 5 اہلکار شہید اور 6 زخمی ہوئے۔

امریکہ اور انگلینڈ کا دعویٰ ہے کہ یہ حملے مقبوضہ علاقوں کی طرف جانے والے بحری جہازوں کے خلاف یمنی کارروائیوں کے جواب میں کیے گئے ہیں۔ غزہ کے خلاف صیہونی حکومت کی جنگ کے بعد یمنی افواج نے نہ صرف ایلات کی بندرگاہ کی طرف راکٹ اور ڈرون داغے ہیں بلکہ مقبوضہ علاقوں کے جنوب اور اسرائیل کے لیے جانے والے مال بردار بحری جہازوں کو بھی روکا ہے۔ یمن نے غزہ میں جنگ روکنے کے لیے تل ابیب پر دباؤ ڈالنے کی کوشش کی ہے، لیکن اب دوسری طرف بحیرہ احمر میں امریکی اتحاد یمنیوں پر دباؤ ڈالنے کی کوشش کر رہا ہے کہ وہ غزہ کی حمایت سے باز رہیں۔

واشنگٹن کو غلط فہمی تھی کہ ان حملون سے یمنیون میں اختلاف پیدا ہو جائیں گے، لیکن ایسا کچھ نہیں ہوا، کیونکہ یہ حملے یمنیوں کے باہمی اتفاق رائے کے ساتھ کیے گئے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ یمنیوں نے اعلان کیا ہے کہ وہ امریکی اتحاد کا مقابلہ کریں گے اور صیہونی حکومت کے خلاف حملے بھی جاری رکھیں گے۔ یمنی شہریوں نے جمعے کی سہ پہر صنعاء میں ملین مارچ میں شرکت کرکے امریکہ کے خلاف جنگ جاری رکھنے اور القدس کی قابض حکومت کے خلاف غزہ کے عوام کی حمایت کے لیے اپنی تیاری کا اعلان کیا ہے۔

یمن کے وزیر دفاع "محمد ناصر العطفی” نے جمعہ کی شام امریکہ، انگلستان اور صیہونی حکومت کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ یمن دشمن کا مقابلہ کرنے اور منہ توڑ جواب دینے کے لیے تیار ہے اور یہ یمن ہی ہے، جو بحیرہ احمر اور مکران میں اپنی طاقت کا مظاہرہ کرسکتا ہے۔ محمد ناصر العطفی نے یہ بھی کہا: "ہم نے کئی بار خبردار کیا ہے کہ بحیرہ احمر صیہونی دشمن کے لیے ممنوعہ علاقہ ہے۔” یمن کی انصار اللہ تحریک کے سیاسی دفتر کے رکن محمد البخیتی نے جمعے کی شام کو امریکہ سے کہا۔ برطانیہ اپنے حساب کتاب اور اندازوں کا جائزہ لے اور اس سلسلے میں اپنے ماضی کے تجربات سے استفادہ کرے۔

دوسری طرف امریکی کانگریس کے نمائندوں نے صیہونی حکومت کے خلاف یمنی عوام کی کوششوں کی حمایت کے ساتھ ساتھ اپنے ملک کے ایک نئی جنگ میں داخل ہونے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا ہے کہ ان کے ملک میں اس جنگ میں داخل ہونے کا حوصلہ نہیں ہے۔ رو کانا، ویلری ہاویل، رشیدہ طلیب، مارک پوکن اور ریپبلکن سینیٹر رینڈ پال امریکی کانگریس کے ان نمائندوں میں شامل ہیں، جنہوں نے اعلان کیا کہ واشنگٹن کسی دوسری جنگ میں نہیں الجھ سکتا۔

حقیقت یہ ہے کہ امریکہ اور برطانیہ غزہ میں نسل کشی کو جاری رکھنے کے لیے تیار ہیں، لیکن دوسری طرف صیہونی حکومت کی طرف سے غزہ کے عوام پر حملوں کے جاری رہنے سے علاقے کی صورت حال پر گہرے اثرات مرتب ہوسکتے ہیں اور خطے میں کشیدگی میں اضافہ ہوسکتا ہے۔ بہرحال اس وقت بحیرہ احمر میں جنگی صورت حال کا کوئی بھی تسلسل انصاراللہ کے ردعمل کی نوعیت اور شدت پر منحصر ہے۔

[DISPLAY_ULTIMATE_SOCIAL_ICONS]

مزید پڑھیے

Most Popular