
تل ابیب: رات بھر مظاہروں کے بعد عام ہڑتال سے اسرائیل میں نظام مفلوج ہوگیا۔ جبکہ لیبر کورٹ نے ہڑتال ختم کرنے کا حکم دے دیا۔ اسرائیل میں فیڈریشن آف ٹریڈ یونینز کی اپیل پر ہڑتال کے تحت تل ابیب کے بن گوریان ہوائی اڈے پر جہازوں کی آمدورفت روک دی گئی۔ تمام اسکول، یونیورسٹیاں، پبلک ٹرانسپورٹ اور دفاتر بھی بند رہے۔ مزدور یونین نے اعلان کیا ہے کہ وہ منگل کو بھی ہڑتال میں توسیع کرنے پر غور کر رہے ہیں۔ اسرائیل کی بڑی مینوفیکچرنگ کمپنیوں اور ٹیکنالوجی کے شعبے میں لاکھوں افراد نے ہڑتال میں حصہ لیا۔
اس سے پہلے اتوار کی رات تل ابیب۔ یروشلم اور حیفہ سمیت کئی شہروں میں 6 یرغمالیوں کی لاشیں ملنے اور دیگر کی واپسی کا مطالبہ کرتے ہوئے نتن یاہو حکومت کیخلاف زبردست مظاہرے کیے گئے۔ جن میں پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے تشدد کا استعمال کیا۔ اسرائیلی میڈیا کے اندازوں کے مطابق، 3 لاکھ سے زائد افراد نے احتجاجی مظاہرے کیے۔ ادھر لیبر کورٹ نے ورکرز کو حکم دیا کہ وہ ہڑتال ختم کرکے کام پر آجائیں لیکن مظاہرین نے عدالتی حکم کو مسترد کردیا اور مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے۔


































