
Oplus_16908288
قسط نمبر 05
تحریروترتیب:سید اظہر عباس نقوی
سماجی کام
مظفر کرمانی ایک خدا پرست اور انتہائی رحم دل انسان تھے یعنی جیسے حضرت علی ؑکا وہ قول جو آپ ؑ نے حضرت ابوذرؑ کے لئے فرمایا تھا ”کہ ابوذر مومنوں کیلئے مہربان ہیں اور دشمن کے سامنے فولاد اور سیسہ پلائی ہوئی دیوار تھے“ ۔شہید پر انتہائی صادق آتا تھا، یہ راز توان کی شہادت کے بعد عیاں ہوا کہ کئی گھرانوں کی کفالت کرنے والا شخص دراصل مظفر علی کرمانی تھا، الغرض کسی کے چھوٹے سے چھوٹے معاشی یا ذاتی مسئلہ ہو یا پھر ملت کا اجتماعی مسئلہ آپ آگے آگے نظر آتے، عجب ہے کہ سب نے دیکھا کہ جس کو کسی زمانے میں اسکول کی فیس ادا نہ کرنے پرخود اسکول سے نکال دیا ہو وہ دوسرے طالب علموں کی مالی امداد کا ذریعہ بنتے تھے، گلگت کے فسادت اور لشکر کشی کے باعث متاثر ہونے والوں کی امداد کیلئے انہوں نے بھرپور طریقہ سے امداد جمع کرکے روانہ کی، 1983ء کے کراچی کے فسادات کے متاثرین ان کی کاوشوں کو کبھی فراموش نہیں کرسکیں گے، گزشتہ دو عشروں کے دوران ملت کے سینکڑوں افراد مذہبی دہشت گردی کا نشانہ بنے مگر جب کوئی تنظیم ان شہداء کے لواحقین کی ذمہ داری قبول کرنے کیلئے تیار نہیں تھی مظفر کرمانی نے سرمایہ دار یا ثروت مند نہ ہونے کے باوجود اپنی حتی المقدور کوشش کی کہ شہید کے پسماندگان کو مالی امداد فراہم کی جائے، مظفر اپنی ذات میں خود ایک انجمن تھے، انہیں ہر لمحہ قوم کی فکر رہتی تھی،ل یکن ان کی فکر صرف پاکستان کے شیعوں تک محدود نہیں تھی، وہ وسیع تناظر میں دیکھنے اور بین الاقوامی سوچ رکھنے والی شخصیت تھے، یہی وجہ ہے کہ اس زمانے میں ایران میں زلزلہ سے ہونے والی تباہی نے انہیں متفکر کردیا اور انہوں نے پاکستان میں بڑے پیمانے پر ایران کے متاثرین کیلئے امداد جمع کی۔
ملت کی انہوں نے ایک بڑی خدمت تحریک جعفریہ کے اغواء کنندگان کو ڈاکوؤں کے نرغے سے آزاد کرا کرکی، 25-26 نومبر 1990ء میں تحریک جعفریہ کے کنونشن سے شرکت کے بعد قافلہ واپس آرہا تھا کہ اسے دادو کے مقام پر اغواء کرلیا گیا، ان حالات میں جبکہ ملت کے اکابرین مغویوں کی بازیابی کی مسولیت سے کنارہ کش ہوگئے مظفر کرمانی نے تن تنہایہ فریضہ انجام دیا، انہوں نے وقار نقوی ایڈوکیٹ شہید اور آغا قنبر عباس کے ساتھ مل کر سیہون، خیرپور اور دادو کی خاک چھانی جہاں سے اطلاع ملتی تھی مظفر وہیں پہنچ جاتے تھے، مظفر دادو میں قیام کے دوران راتوں کو جنگلوں میں چلے جاتے تھے تاکہ ڈاکوؤں سے کوئی رابطہ قائم ہو اور کوئی بات بن جائے انتھک محنت اور جدوجھد کے بعد آخر کار ملت کے اس شیر دل شخصیت نے ڈاکوں کا پتہ ڈھونڈھ ہی نکالا بعد ازاں تاوان کا مطالبہ سامنے آیا تو مظفر بھائ نے یہ فریضہ بھی خوش اسلوبی سے انجام دیا، اور اس کام کے لئے فوری رقم کا بندوبست کرنے کے لئے اپنے گھر کو بھی گروی رکھ دیا۔ بالآخران کئ دن رات کی کوششیں رنگ لائیں اور مغوی آزاد ہوگئے، ان کی کوششوں میں مرحوم شیخ علی مدد اور مرحوم شیخ غلام اصغر نجفی (سیہون شریف) نے بھی مظفر کرمانی کی بہت معاونت کی، رہائی کے فورا بعد علامہ حسن ترابی کا مظفر کے پاس پہنچنا انکا شکریہ ادا کرنا ان کی کوششوں کا اعتراف ہے،
علامہ ساجد نقوی کے سامنے جب ایک اجلاس میں بعض افراد اپنی جدوجہد کے دعوے کررہے تھے اس موقع پر شہید علامہ حسن ترابی نے انہیں تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ ”آج یہ پھول کے ہار جو ہمارے گلے میں موجود ہیں اگر مظفر علی کرمانی نہ ہوتے تو یہ ہار ہماری قبر پر ہوتے“ –
یہ چند ایک سماجی کام ہیں جن کا زکر یہاں ہم نے مختصر طور پر اپنے قاریئن کے لئے پیش کیا ہے اس کے علاوہ کئ ایسی داستانیں جیسے کہ اپنے آقا و مولا علی ع کی پیروی کرتے ھوئے شہدا و فقرا کے گھر جاکر انکے لواحقین کو تسلی دینا انکا غم بانٹنا۔ انکی مالی مشکلات کو انکی آبرو و عزت نفس کو حفظ کرتے ہوئے حل کرنا یہ سب داستانیں اس شہید بزرگوار کے ساتھ ہی اس دنیا سے اس دنیا کی طرف منتقل ہوگئیں۔
یقینا خدا نے اپنے اس شیر دل ابوزر زمان کو اپنے اقا امیرالمومنین ع کے ساتھ محشور کیا ہوگا۔


































