
Oplus_16908288
قسط نمبر 04
تحریروترتیب:سید اظہر عباس نقوی
اسلام ناب محمدی کے احیاء کی کوششیں
مظفر کرمانی شخصیت پرست نہیں اسلام پرست انسان تھے امام خمینیؒ اور علامہ عارف سے ان کی وابستگی بھی اسلام کی بدولت تھی ان کا اصل ہدف اسلام ناب محمدی کا احیاء تھا اس کیلئے انہوں نے ملت کے نوجوانوں کو منتخب کیا وہ سمجھتے تھے کہ اگر ملت کے نوجوان اسلامی رنگ میں رنگ گئے تو پھر ملک میں انقلاب امام زمان ع کو کوئی نہیں روک سکے گا انہوں نے نوجوانوں کی نظریاتی و انقلابی سوچ کیلئے دروس کا اہتمام شروع کیا۔اسلام کے حوالے سے ان کا مطالعہ بہت وسیع تھا اسی لئے مخالفین کو بڑی خوبی سے قائل کرلیتے تھے، مظفر نے نوجوانوں کی تربیت کا جو دشوار گزار سفر شروع کیا تھا وہ دراصل تنظیموں کی ذمہ داری ہے مگر تنظیموں کی عدم فعالیت کے سبب انہوں نے یہ بارگراں اپنے ناتواں کاندھوں پر اٹھا لیا، نوجوانوں کی فکری تربیت اور معاشرہ سازی کا یہ سلسلہ انہوں نے انفرادی سطح پر کافی عرصے جاری رکھا مگر باقاعدہ منظم نہ ہونے کے سبب مظفر اس کام میں دشواری محسوس کرنے لگے ایسے میں ضرورت تھی کہ باقاعدہ کسی پلیٹ فارم یا ادارہ کے تحت اس کام کو انجام دیا جائے اس کیلئے انہوں نے بقیۃ اللہ اسلامک انسٹی ٹیوٹ کی بنیاد ڈالی اس ادارہ کے تحت انہوں نے ایسے سطحی اور بنیادی موضوعات پر سیمینار کا سلسلہ شروع کیا جن پر اس سے قبل بات نہیں کی جاتی تھی، سیمینار کے ذریعے فکری و نظریاتی نشو و نما سے ان کے جانثاروں اور نظریاتی ساتھیوں کاحلقہ وسیع ہوتا چلا گیا آج نہ صرف کراچی بلکہ سیالکوٹ، کوئٹہ اوراسلام آباد اور بیرون ملک میں سیمینارز کاسلسلہ کامیابی سے جاری ہے، وہ بیرون ممالک سے آنے والے افراد کو اچھے پیامبر سمجھتے تھے اسی لئے 1998 ء میں دبئی میں سیمینار کا سلسلہ شروع کیا بعد ازاں شارجہ ، ابوظہبی، دارلاسلام اور ٹورنٹو میں کامیاب فکری نشستیں منعقد کیں، ان کی نظر میں اسلام اور نظریہ ولایت فقیہہ مقدم تھا اسی لئے ولایت فقیہہ کیلئے کام کرنے والی ہرتنظیم ان کی منظور نظر ہوتی تھی ان تنظیموں کی کہیں مالی ،کہیں عملی اور کہیں افراد کی صورت میں مدد فراہم کی، شخصیت پرستی سے اجتناب کرتے ہوئے سیمینارز میں ایسے علماء متعارف کروائے جو اپنے موضوعات پر مکمل دسترس رکھتے تھے، اسلام ناب محمدیؐ کے احیاء کیلئے جہاں انہوں نے سیمینارز کا سلسلہ شروع کیا وہیں انہوں نے میڈیا کی اہمیت کو تسلیم کرتے ہوئے اس شعبہ میں قدم رکھ دیا،وہ ملت تشیع کے اس شعبہ میں بے انتہا پیچھے ہونے کی وجہ سے اپنے ساتھیوں کو شعبہ کی اہمیت اور ضرورت سے آگاہ کرتے رہتے تھے اور انتہائی دردمندانہ انداز میں اپنے ساتھیوں کواس ذمہ داری کو اپنے مضبوط کاندھوں پراٹھانے کے لئے آمادہ کرتے تھے، دن رات کی کوششوں اور ساتھیوں کی بھرپور مدد کے باعث انہوں نے ماہنامہ نوائے اسلام کی بنیادڈالی جو بعد میں ہفت روزہ میں تبدیل ہوگیا، آپ نے اپنی شہادت تک اس ادارہ کی سرپرستی کے فرائض انجام دیئے، وہ نوائے اسلام کو روزنامہ کرنے کے خواہشمند تھے مگر دشمنوں نے انہیں اس کی مہلت نہیں دی۔
شہید کی جانب سے اسلام ناب محمدی کے لئے منعقد کئے جانے والے سیمینارز پر ایک نظر
۱۔دین فقط اسلام ہے
۲۔اسلام اور سائنس
۳۔قرآن کے اجتماعی احکام
۴۔Role of Muslim Countries in the new world order
۵۔اثبات وجودخداکی دلیلیں
۶۔Comparative analysis of islam & materialistic western Culture
۷۔فرقہ واریت
۸۔شفاعت
۹۔ولایت فقیہ
۰۱۔امام حسین ؑقربان غدیرہیں
۱۱۔سیرت نبیؐ
۱٢۔فلسفہ عزاداری
١۳۔The Historical Background and Political Structure of Pakistan
١٤۔آفاتِ دین
١٥۔فلسفہ قیام امام حسین ؑ
١٦۔اصول دین کے معاشرتی اثرات
١٧۔Research Anaylsis of Islamic Ruling System
١٨۔امامت وامت
١٩۔توحید
جاری ہے۔۔۔۔
اگے کی اقساط میں مندرجہ زیل عناوین ملاحظہ فرمایئے۔
* سماجی کام
* حقیقی عزاداری کے لئے کوشیشیں
* مستقبل کے پروگرام
* شھادت کے اسباب


































