Sat Oct 10, 2026

ٹرمپ نے ایران سے جنگ چھیڑ کر امریکا کو رسوا کیا، امریکی سینیٹر گلگت بلتستان کے وسائل پر کسی بیرونی طاقت کو اثر انداز نہیں ہونے دیں گے، مرکزی انجمن امامیہ ٹرمپ کی پھر رسوائی، امن کا نوبل انعام انسانی حقوق کی وکیل ناوی پلے کے نام آبنائے ہرمز میں ایل پی جی گیس بردار جہاز پر حملہ، آگ لگ گئی پاکستان ہر خطرے کے مقابلے میں سعودی عرب کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑا رہے گا، وزیراعظم سعودی عرب انصار اللہ کے خلاف جنگ میں ایک بار پھر ماضی کے دلدل میں داخل ہو چکا ہے، نیویارک ٹائمز طویل جنگ کیلئے اسلحے کی وافر پیداواری صلاحیت موجود ہے، ترجمان ایرانی وزارت دفاع مکہ معاہدہ ، سعودی عرب کا دفاع کیا جائے گا: ترجمان پاک فوج آبنائے ہرمز میں کسی بیرونی طاقت کو مداخلت کا حق نہیں، جنرل احمد وحیدی حالیہ جنگوں میں فورسز کا امن و امان قائم رکھنے میں کردار بے مثال رہا، ولی امر مسلمین ترکیہ کا فوجی دستے سعودیہ بھیجنے سے انکار، مکہ معاہدہ پارلیمنٹ میں لایا جائیگا، وزیرخارجہ انصار اللہ کے حملے میں سعودی طیارہ تباہ اسرائیل کو ایران پر ممکنہ حملے کیلئے تیار رہنے کی ہدایت ایران کے حملوں کے بعد امریکی فوج نے کویت کا اہم اڈہ خالی کر دیا بھارت پاکستان میں دہشت گردی کیلئے طالبان کی مدد کر رہا ہے: جواد اجمل

روزانہ کی خبریں

مختصر سوانح حیات(3)
اسوہء اخلاص کشتہء اسلام ناب محمدی ﷺ
شہید محترم مظفر علی کرمانی ؒ

Oplus_16908288

قسط نمبر 03

تحریروترتیب: سید اظہر عباس نقوی

قائد شہید کی قیادت پر اعتماد

29اگست 1983ء کو مفتی جعفر حسین کی رحلت کے بعد جب 10فروری 1984ء کو علامہ عارف حسین الحسینی کے قائدملت جعفریہ بننے کا اعلان ہوا تو اسلام پسند دیگر نوجوانوں کی طرح مظفر کرمانی نے بھی انتہائی مسرت کا اظہار کیا وہ مفتی جعفر کے بعد پیدا ہونیوالی قیادت کے تنازعہ سے انتہائی متفکر رہتے تھے اسی لئے علامہ عارف کا اعلان قیادت ان کیلئے خوشی کا پیغام لیکر آیا، مظفر کرمانی نے مملکت خداداد پاکستان میں انقلاب اسلامی کیلئے جدوجہد کا تجدید عہد کیا اور قائد شہید کی قیادت پر اعتماد کرتے ہوئے ایک بارپھر اپنے ہدف کی طرف گامزن ہوگئے، قائد شہید کے دورہ کراچی کا اعلان ہوا تو اس کے انتظامات کی ذمہ داری بھی مظفرکرمانی نے سنبھال لی،یہ بات کہنے میں کوئی عار نہیں ہوناچاہیے کہ قائد شہید کو کراچی میںبھرپور طور پر متعارف کرانے کاسہرا بھی مظفرکرمانی کے سر ہے، وسائل نہ ہونے کے باوجود مظفر کرمانی نے قائدشہید کا کراچی پہنچنے پر شاندار استقبال کرایا، قائد شہید کوایک بڑے جلوس کی شکل میں کھارادر سے محفل حسینیہ ایرانیان تک لے جایا گیا جہاں قائد نے بڑے اجتماع سے خطاب کیا ،مظفر کی عقیدت اور خلوص کی بدولت مظفر کرمانی قائد شہید کے منظور نظر بن گئے اور دونوں میں قریبی رفاقت قائم ہوگئی، ابتدائی ایام میں علماء سے زیادہ غیر علماء نے شہید عارف کا ساتھ دیا ان میں سے ڈاکٹر محمد علی نقوی شہید اور مظفر کرمانی شہید صف اول میں تھے، مظفر کرمانی بظاہر تو تحریک کے ضلع جنوبی کے صدر تھے مگر اپنی فعالیت کے باعث کراچی میں تحریک کیلئے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے تھے، انہوں نے اپنی ذاتی کوششوں سے تحریک کیلئے مالی وسائل کا اہتمام کیا وہ صاحب ثروت افراد سے ملاقاتیں کرکے انہیں ان کی مذہبی ذمہ داریوں سے آگاہ کرتے تھے، مظفرکرمانی قائد شہید سے تنظیمی وابستگی سے قطع نظرذاتی عقیدت بھی رکھتے تھے یہ محبت نہیں تھی وہ اسلام میں ضم ہونے کے باعث علامہ عارف کے گرویدہ تھے پاکستان میں تشیع کی بڑی تعداد قائد شہید کی شہادت تک انہیں پہچان نہ سکی تھی مگر مظفر کرمانی کی بصیرت افروز نگاہیں اپنے قائد کو پہچان چکی تھیں، علامہ عارف کے ہر دورہ کراچی کانہ صرف انتظام مظفر کرمانی کی جانب سے ہوتا بلکہ مالی وسائل کی کاوشوں کے اعتراف میں قائد نے انہیں خازن مقرر کردیا، کراچی میں تحریک کی جان تھے ان کے بغیر کوئی پروگرام مکمل نہیں تھا،وسائل کے بغیر بڑی سے بڑی ذمہ داری لینا ان کا خاصہ تھا

علامہ عارف حسینی نے 19 دسمبر 1984ء کو ہونیوالے ضیاء الحق کے ریفرنڈم کے بائیکاٹ کا اعلان کیا تو کراچی میں قائد کے فرمان پر عملدر آمد کی ذمہ داری مظفر کرمانی نے سنبھال لی، مظفر کرمانی کی کوششوں کایہ نتیجہ نکلاکہ ملک کے دیگرحصوں کی طرح کراچی میں بھی ملت جعفریہ نے خودکو ضیاء الحق کے صدارتی ریفرنڈم کے ڈرامہ سے علیحدہ رکھا ،تنظیم کوفعال بنانا ان کی ترجیح تھی کبھی اپنے مفادات کو مدنظر نہیں رکھا ،اپنی ذاتی کوششوں سے کراچی میں تحریک کو عالیشان دفتر قائم کرنے میں مدد دی۔

5 اگست 1988ء کو قائد کی شہادت کی خبر مظفر کرمانی پر بچلی بن کرگری، انہوں نے اسے ملت کا ناقابل تلافی نقصان قرار دیا، آپ کی خواہش تھی کہ کسی طرح شہید کے چاہنے والے شہید کے جنازہ میں شریک ہوجائیں اور اس سلسلے میں بھی انہیں تائید غیبی حاصل ہوئی جب حمید بھوجانی کی مدد سے وہ کراچی تا راولپنڈی طیارہ اسپانسر کروانے میں کامیاب ہوگئے، آپ کو قائد شہید کی جدائی کا اتنارنج تھا کہ 13 سال گزرنے کے باوجود آپ کا غم ختم نہیں ہوا قائد شہید کا ذکرسنتے ہی آنکھیں نم ہوجاتی تھیں انہوں نے ہرسال 21 ذی الحجہ کو قائد کے مرقد پر قافلہ لے جانے کی روایت ڈالی اس طرح انہوں نے قائد کی شہادت کے ہجری تاریخ کو بھی زندہ رکھا، مرقد پرپہنچ کر آپ شہید قائد کی قبر سے لپٹ کر ایسے روتے تھے جیسا کوئی بچہ اپنی ماں سے بچھڑ کرروتا ہے، مظفر کرمانی نے شہادت تک اس سلسلے کو جاری رکھا۔

قائد شہید کی شہادت کے بعد ان کے آثار جمع کرنے کا مرحلہ درپیش ہوا تواس وقت بھی مظفر کرمانی صف اول میں نظر آئے آثار کی جمع آوری اور اس کیلئے وسالئل کا اہتمام مظفر کرمانی کا اہم کارنامہ ہے۔

علامہ عارف کے بعد تحریک اختلافات کا شکار ہوئی تو مظفر معاملات سلجھانے کی کوشش میں مصروف رہے، اسی دوران الیکشن میں حصہ لے کرمخالفین کو قائل کیا۔

انہوں نے تحریک کے پلیٹ فارم سے سندھ اسمبلی کے انتخابات میں حصہ لیا، اہل زبان نہ ہونے کے باوجود بھرپور الیکشن مہم چلائی وہ جانتے تھے کہ کامیابی نہیں ہوگی ملت کا تشخص اجاگر کرنے کیلئے یہ فریضہ بھی انجام دیا دوران الیکشن اہلسنت نے نفاذفقہ جعفریہ پر اعتراض کیا تو انہوں نے بڑے عالمانہ انداز میں اس اعتراض کو دور کیا ،انہوں نے کہا کہ تحریک جعفریہ کا مقصدیہ نہیں کہ ہم پورے ملک میں فقہ جعفریہ کا نفاذ چاہتے ہیں ہم اہل تشیع کیلئے جعفریہ اور برادران اہلسنت کیلئے ان کی فقہ کا مطالبہ کرتے ہیں، 1992ء میں علامہ جوادی کی سندھ کی صدارت سے علیحدگی تحریک کے اختلافات کا اہم ترین مرحلہ تھا اس موقع پرمظفرکرمانی نے نہایت سرگرمی سے دونوں گروپوں کو یکجا کرنے کی کوشش کی ،علامہ ساجد نقوی کی زیرصدارت اجلاس میں سندھ کا مقدمہ بڑی کامیابی سے پیش کیا اور تحریک کے دستور کی بعض خامیوں کی نشاندہی کی تاہم تحریک کی قیادت سے نظریاتی اختلافات کے باعث مظفر کرمانی نے باقاعدہ طور پر تحریک سے علیحدگی اختیار کرلی لیکن تحریک چھوڑنے کے بعد ان کی فعالیت کم ہونے کے بجائے بڑھ گئی، اب انہوں نے اپنے لیے ہدف کا تعین کرکے نوجوانوں کی تربیت کا بیڑا اٹھا لیا، تن تنہا اور وسائل کے بغیر ایک بڑے مقصد کی طرف بڑھنا دراصل مظفر جیسے مضبوط قلب کے انسان کا کام تھا۔

جاری ہے۔۔۔۔۔

[DISPLAY_ULTIMATE_SOCIAL_ICONS]

مزید پڑھیے

Most Popular