
Oplus_16908288
قسط نمبر 02
تحریروترتیب: سید اظہر عباس نقوی
تحریک نفاذ فقہ جعفریہ میں فعالیت
شہید مظفر پاکستان میں امام خمینی رح اور اسلامی انقلاب کے حامی تھے، یہی وجہ ہے کہ ضیاء الحق کے اسلام امریکائی کیخلاف شیعہ اکابرین نے اسلام کے تحفظ کے لئے 13 اپریل 1978ءکو تحریک نفاذ فقہ جعفریہ قائم کی تو مظفر کرمانی ان چند افراد میں سے تھے جنہوں نے مفتی جعفر کی قیادت پراعتماد کا اعلان کیا، یہ وہ دور تھا جب مظفر کرمانی نے سیاست الٰہی کے میدان میں قدم رکھا، اس وقت کراچی میں تحریک نفاذ فقہ جعفریہ کا کوئی باقاعدہ ڈھانچہ تشکیل نہیں پایا تھا مگر اس کے باوجود مظفر کرمانی سیاسی جدوجہد میں پیش پیش تھے،ایک توشیعہ اکابرین ملت تشیع کے حقوق سے متعلق لائحہ عمل طے کرنے میں مصروف تھے اور ادھرضیاء نے الحق زکواۃ عشرآرڈیننس کے ذریعے ملت جعفریہ کی پریشانیوں کو دو چند کردیا جس کے بعد علامہ مفتی جعفرحسین مرحوم نے 6 جولائی 1980ء کو اسلام آبادمیں شیعہ قومی کنونشن کا اعلان کردیا، ملک بھر میں مفتی جعفرمرحوم کے اس اعلان کا شاندارخیرمقدم کیاگیا، مظفر علی کرمانی نے اس کنونشن کوکامیاب بنانے کیلئے دن رات ایک کردیئے انہوں نے قائد ملت جعفریہ کے پیغام کو کراچی کے کونے کونے میں پہنچایا، کراچی سے نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد کو لیکر اسلام آباد پہنچے تاکہ اجتماعیت کا عملی مظاہرہ ہوسکے، اس عظیم الشان قومی کنونشن کے نتیجے میں ضیاء الحق قوم کے ساتھ تحریری معاہدہ کرنے پر مجبورہوا اس کنونشن کے دوران مظفرکرمانی کی خدمات کو فراموش نہیں کیاجاسکتا ،وقت کے تقاضوں کومدنظر رکھتے ہوئے مظفر کرمانی نے خود کو تحریک نفاذفقہ جعفریہ سے مربوط کرلیا۔
جاری ھے….


































