
تحریر۔ مولانا سید حیدر عباس الحسینی
فکر اور عمل کسی بھی شخص کو پرکھنے کا معیار اور میزان ہیں۔ یہ دونوں ایسی بنیادیں ہیں کہ جن پر انسانیت استوار ہے۔
فکر اور عمل ایک دوسرے کے لئے لازم و ملزوم ہیں ۔ فکر کے بغیر عمل صحیح نہیں اور عمل نہ ہو تو فکر کا کوئی فائدہ نہیں۔ لیکن اگر یہی فکر و عمل یکجا ہو جائیں تو بڑے سے بڑے فرعون کو دریا میں غرق کرسکتے ہیں اور ہزاروں سالہ شہنشاہیت کو پاش پاش کر سکتے ہیں ۔
برادر عزیز! شہید مظفر کرمانی ؒ نہ فقط یہ کہ خود ایک محکم فکری اور بے خوف عملی انسان تھے بلکہ فکری اور عملی شخصیت ساز بھی تھے۔ ان کی زندگی بالخصوص سیمینار کا منظر اور محکم سلسلہ اس بات پر گواہ ہے۔
شہید مظفر کرمانی ؒ کا یہ شیوہ رہا کہ اگر کسی عقیدے کو تسلیم کیا تو اس پر عمل کرکے بھی دکھایا اور اگر کسی نظریے کو صحیح سمجھا تو ببانگ دہل اس کا اعلان بھی کیا۔ شہید ایمان کے اس آخری درجے پر فائز تھے کہ نہ فقط برائی کو دل سے برا سمجھا اور زبان سے برا کہا بلکہ عمل سے بھی روکنے کی کوشش کی۔
ہمیشہ ایسی ہی فکر و عمل سے ہم آہنگ شخصیات سے استبداد اور استکبار کو خوف لاحق رہا ہے کیونکہ ایسے ہی لوگ ان کی ہیبت اور تکبر کے بت توڑ دیتے ہیں لہٰذا ان کو موت کے گھاٹ اتار دیا جاتا ہے اور یہ گمان کرتے ہیں کہ انہوں نے اس کی آواز کو خاموش کرکے اپنی دہشت کو منوالیا ہے ۔ لیکن ان کا یہ خیال خام اس وقت دہرا رہ جاتا ہے جب شہید کہ یہ سنائی ہوئی آواز چٹانوں سے ٹکرا کر گونجنے لگتی ہے کیونکہ شہید مظفر کی خصوصیات میں سے ایک اہم خصوصیت یہ تھی کہ دلائل کی بنیاد پر بات کرتے اور دلیل سے خود بھی قائل ہو جاتے۔
اور شاید ان کی یہی فکر کی پختگی اور عمل کی سختی ان کی شہادت کا سبب بن گئی۔ اس بات کا احساس خود شہید کو بھی تھا لیکن شہید اس نظریئے کے قائل تھے کہ:
زندگی اتنی غنیمت تو نہیں جس کے لئے
عہد کم ظرف کی ہر بات گوارا کرلیں


































