
تحریر: محمد علی زادہ
2023ء کے آغاز کے قریب امریکی شہری اچھے حالات سے روبرو نہیں ہیں۔ ایک طرف ملک کی اندرونی اور خارجہ سیاست میں مسلسل بحرانوں کا جنم لینا اور دوسری طرف بائیڈن حکومت کی ملک کو درپیش اقتصادی بحران پر قابو پانے میں ناکامی نے واشنگٹن کو عالمی نظام میں مشکلات اور بحرانوں کے ایجاد کا مرکز بنا دیا ہے۔ دوسری طرف یوکرین، مشرقی ایشیا اور مغربی ایشیا میں امریکہ کی مہم جوئی نے خطے اور دنیا میں واشنگٹن کے اخراجات میں وحشتناک حد تک اضافہ کر دیا ہے۔ ایسے حالات میں امریکی حکمران روز بروز خود کو ملک میں درپیش مشکلات اور بحرانوں کے حل میں مزید بے بس اور ناتوان محسوس کرتے جا رہے ہیں۔
ایک معنی خیز سروے
ان دنوں امریکہ میں معنی خیز سروے رپورٹس شائع ہو رہی ہیں۔ سیفولک یونیورسٹی کے یو ایس ٹوڈے نے سروے انجام دیا ہے۔
اس سروے میں شریک دو تہائی افراد کا خیال ہے کہ ان کا ملک غلط راستے پر چل نکلا ہے اور وہ کسی بھی سیاسی جماعت یا حکومتی گروہ پر ملک کو درپیش چیلنجز موثر انداز میں حل کرنے میں اعتماد کرنے کو تیار نہیں ہیں۔ ان کی نظر میں 2023ء کیلئے امریکی صدر جو بائیڈن اور نئی کانگریس کی پہلی ترجیح واضح ہے؛ مہنگائی اور معیشت جسے سروے میں شریک 54 فیصد افراد نے پہلا یا دوسرا مسئلہ چنا ہے۔ یہ تعداد دیگر موضوعات کو چننے والے افراد کی تعداد سے دوگنا زیادہ ہے۔ ریپبلکن پارٹی کا جینیتھ براون، جو کیلی فورنیا کے شہر پیٹالوما میں پراپرٹی ڈیلر ہے، کہتا ہے: "میں امیدوار ہوں لیکن مجھے شک ہے۔” ڈیموکریٹک پارٹی کے پیٹر گرانٹ بھی جو مین ریاست کے شہر والڈویوری میں سمندری کام کرتے ہیں خود کو "تھکا ہارا” بیان کرتے ہیں۔
اس سروے میں 26 فیصد کے مقابلے میں 65 فیصد امریکی شہریوں نے اس خیال کا اظہار کیا ہے کہ ان کا ملک صحیح راستے کی بجائے غلط راستے پر چل نکلا ہے۔ گذشتہ برس بھی آخری مہینوں میں ایسا ہی سروے انجام پایا تھا جس میں 30 فیصد کے مقابلے میں 57 فیصد امریکی شہریوں نے اس خیال کا اظہار کیا تھا کہ ان کا ملک غلط راستے پر جا چکا ہے۔ اگرچہ ان نتائج کو یقینی طور پر قومی اکثریت قرار نہیں دیا جا سکتا بلکہ نئے سال کے قریب منحوس مستقبل کی پیشن گوئی کی حد تک ہے لیکن جولائی کی نسبت حالیہ سروے میں مایوسی میں اضافہ ہوا ہے۔ سروے میں شریک افراد میں سے 39 فیصد نے اس سوال کے جواب میں کہ آپ نئے سال میں اپنے حال کو ایک لفظ میں کیسے بیان کریں گے، "امیدوار” کا لفظ کہا جبکہ 5 فیصد نے "مشتاق” کا جواب دیا۔ گذشتہ سال کی نسبت اس تعداد میں کمی آئی ہے۔
بائیڈن کے بارے میں تحقیق
8 فیصد ریپبلکن پارٹی کے حامیوں سمیت صرف 5 فیصد امریکی شہری بائیڈن حکومت کے بارے میں تحقیق کو اپنا سب سے بڑا مسئلہ سمجھتے ہیں۔ انتہائی کم تعداد میں اس عوامی حمایت سے ان ریپبلکن رہنماوں کو بہت دھچکا پہنچتا ہے جنہوں نے جو بائیڈن حکومت کے خلاف تحقیق شروع کرنے کا وعدہ کیا ہے۔ وہ افغانستان سے امریکی فوجیوں کے انخلاء، جنوبی سرحدوں کو کنٹرول کرنے کی پالیسی، ہنٹر تجارتی مفادات سے متعلق مبینہ تضادات، جو بائیڈن کے بیٹے اور چند دیگر موضوعات کے بارے میں تحقیق کے خواہاں ہیں۔ توقع کی جا رہی ہے کہ جب وہ جنوری 2023ء میں ایوان نمائندگان میں اکثریت حاصل کر لیں گے تو اس مسئلے میں کافی پیچیدگیاں پیدا ہو جائیں گی۔ 51 فیصد امریکی شہری اس جملے کی تائید کرتے ہیں کہ "کانگریس کی تحقیق کا اصل مقصد بائیڈن حکومت کو شرمندہ کرنا ہے۔”
مشکلات پیدا کرنے والی دو جماعتوں سے امریکی ناخوش
ڈیموکریٹک اور ریپبلکن پارٹی کے درمیان اقتدار کی ہمیشگی منتقلی نے اس ملک میں وسیع بحران پیدا کر دیا ہے۔ اس وقت امریکی شہریوں کی اکثریت ان دونوں سیاسی جماعتوں کو "حد سے زیادہ شدت پسند” تصور کرتی ہے۔ خود کو ریپبلکن پارٹی کا حامی ظاہر کرنے والے 28 فیصد امریکی شہریوں سمیت 61 فیصد شہری ریپبلکن پارٹی کو بہت زیادہ انتہاپسند تصور کرتے ہیں۔ اسی طرح خود کو ڈیموکریٹک پارٹی کا حامی ظاہر کرنے والے 17 فیصد امریکی شہریوں سمیت 52 فیصد کا خیال ہے کہ ڈیموکریٹک پارٹی حد سے زیادہ شدت پسند ہے۔ تقریباً نصف امریکی شہری اس حق میں ہیں کہ ملک میں ایک تیسری سیاسی پارٹی بھی ہونی چاہئے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ اس ملک میں اقتدار کے روایتی سیٹ اپ میں تبدیلی چاہتے ہیں۔
امریکہ کو درپیش شدید چیلنجز
امریکہ میں اقتصادی بحران کے حقیقی اسباب بنیادی نوعیت کے ہیں۔ لہذا ان کے حل کیلئے بھی صرف منیجمنٹ میں تبدیلی کی بجائے نظریاتی بنیادوں میں بھی اصلاح ضروری ہے۔ ملک کی دو بڑی سیاسی جماعتوں کے سربراہان کے درمیان انجام پانے والے مناظرات سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان میں سے کسی کے پاس بھی جامع حل موجود نہیں ہے اور وہ صرف ایکدوسرے کو تنقید کا نشانہ بناتے رہتے ہیں۔ 2022ء میں کانگریس کے مڈٹرم الیکشن کے نتائج ملک کے موجودہ حالات سے متعلق اہم حقائق فاش کر رہے ہیں۔ ایک طرف سینیٹ میں دونوں جماعتوں کا برابر سیٹیں حاصل کرنا اور دوسری طرف ایوان نمائندگان میں ریپبلکن پارٹی کی محدود برتری سے ظاہر ہوتا ہے کہ آئندہ دو سال تک ملک اندرونی سیاسی کشمکش کا شکار رہے گا۔ ایڈیسن ریسرچ فاونڈیشن کی تحقیق سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایوان نمائندگان کے نامزد امیدواروں کو ووٹ دینے والے دو تہائی ووٹرز جو بائیڈن کو دوبارہ صدر بنانے کے حق میں نہیں ہیں۔ اسی طرح تقریباً 60 فیصد امریکی شہری بھی نہیں چاہتے کہ ڈونلڈ ٹرمپ دوبارہ صدر بنیں۔


































