
تل ابیب : اسرائیلی وزیر برائے سلامتی اتمار بین گوئر نے فلسطینی قیدیوں پر جنسی مظالم سمیت ہر طرح کے تشدد کو جائز قرار دیا ہے۔صیہونی وزیر کا یہ شرمناک بیان فلسطینی نوجوانوں کے ساتھ بالجبر بدفعلی کی ویڈیو فلموں کے سامنے آنے کے بعد آیا ہے جن میں دکھایا گیا ہے کہ قیدیوں کے ایک گروپ میں سے ایک قیدی کو الگ کیا جاتا ہے، اس کے ہاتھ پاؤں بندھے ہوئے ہیں اور اسے زمین پر ڈالا گیا ہے۔ اس کے بعد وردی دھاری درندے اسے ایک دیوار کے سہارے کھڑا کرتے ہیں اور اپنے چہروں کو شیلڈوں سے چھپاتے ہیں۔ الجزیرہ نے ویڈیو فلموں کے مصدقہ ہونے کا دعویٰ کیا ہے اور بتایا ہے کہ مجبور فلسطینی نوجوان کو جب علاج کے لئے ہسپتال لایا گیا تو وہ چل نہیں پارہا تھا۔ تاہم چار اگست کو ملٹری پراسیکیوٹرز نے گرفتار کئے گئے سپاہیوں میں سے تین کو رہا کردیا جبکہ دو کو تیس جولائی کو رہا کردیا گیا تھا۔ مقبوضہ فلسطینی علاقے میں اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے دفتر او ایچ سی ایچ آر نے ویڈیو فلموں میں دکھائی گئی زیادتی پر سخت تشویش کا اظہار کیا ہے اور ایسے واقعات کی مکمل تحقیق پر زور دیا ہے۔
تاہم اسرائیلی وزیر مالیات بیزالیل اسمارتش نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر ظلم کی مذمت کرنے کے بجائے فلم لیک کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے جنہوں نے اس کے بقول ملک کو بدنام کیا ہے اور سلامتی کو خطرے میں ڈالا ہے۔
وزیر مالیات کی بیغیرتی کو پیچھے چھوڑتے ہوئے قومی سلامتی کے وزیر اتمار بن گوئر نے کہا کہ اگر ایسے مظالم ریاست کی سلامتی کے لئے کئے جائیں تو جائز ہیں۔
امریکی نیوز ویب سائٹ ’انٹرسیپٹ‘ نے کہا ہے کہ مذکورہ ویڈیو فلمیں ظلم کی ہلکی سی جھلک دکھاتی ہیں اور اسرائیلی جیلوں میں فلسطینیوں پر کیا جانے والا ظلم اس سے کہیں زیادہ ہے۔


































