
تحریر: عارف ارمان
درد دل کے واسطے پیدا کیا انسان کو
ورنہ اطاعت کیلئے کچھ کم نہ تھے کروبیاں
اس بات سے عالم بشریت واقف ہے کہ انسان کی خلقت میں خمیرِدرد شامل ہے۔اگر درد کو بشر سے جدا کرے، تو بے مروتی یا بے حسی کا لقب انسان سے متصل ہوجاتا ہے۔اس امتحانی دورہ (مدت حیات) میں انسان کو متعدد مواقع فراہم ہوتے ہیں کہ انسان اپنے درد کو عملی جامہ پہناسکے۔خلاصہ کلام یہ ہےکہ؛ انسان اگر چاہے تو ایثار و قربانی،پیار ومحبت، الفت،زبانی مٹھاس اور دیگر دلوں پہ راج کرنے والے خدمات سے اپنے درد کو عملی جامہ پہنا سکتا ہے۔
عید کے ایام ہیں،چارسوء عید کی فضا قابل دید ہے اور تعریف کی محتاج نہیں، ہر گھر میں خوشی، تو ہر سمت رنگارنگ فیشن،گھروں سے مختلف انواع کے غذا کی خوشبو اپنی طرف دعوت دے رہی ہے،لوگوں کے چہروں پہ مسکراہٹ اور ہونٹوں پہ تبسم اور جوشیلہ انداز میں ایک دوسرے سے سلام و دعا اور عید مبارک!!! عید مبارک!!! کی گونجیں…..
واہ کیا سماء ہے،کیا نظارہ۔
خدا ہمیشہ سب کی مدت حیات کو عید قرار دے۔
الہی امین
لیکن اسی سماج میں ایک طبقہ ایسا بھی ہے،جو خوش تو ہے مگر کہنہ ملبوسات میں، ہمسائیوں کی دردر گردش تو کرتے ہیں مگر پھٹی جوتوں اور پھٹی آستینوں میں، غذا نوش تو کرتے ہے مگر دست بھیک پھیلاکے، ہونٹوں پہ تبسم تو ہے مگر آنکھوں میں آنسو کا قطرہ بھی۔
ان حالات کو دیکھ کر جی چاہتا ہے کہ چیخ چیخ کر کہوں کہ اے درد دل کے مالک! کیوں نہ ان غریبوں کو عید کے موقع پر لباس نو پہناوں یا ھم بھی پھٹی ملبوس میں دردر پھرے تاکہ درد میں اور بھی اضافہ ہو۔کیوں نہ ہم ان سے دست بہ دست ہوکے چلیں یا ہم بھی فقیرانہ شکل میں امیروں کے دنبال دردر گردش کریں تاکہ احساس فقیری و تنہائی بھی ہوجائے،کیوں نہ ہم ان کو اپنے جیسے غذا کھلائیں یا ان کے مانند دست بھیک پھیلاکے کچھ مانگ کے کھائیں شاید احساسِ غربت دل میں آجائے۔
لیکن افسوس عید پر نہ غریبوں کی خوابوں کی تعبیر ہوتی ہے اور نہ ہم امیروں کو احساس غربت۔
حداقل ہمیں یہ تو باور ہو کہ اللہ نے غریبوں کے رزق، اشرافیوں کے سفروں پہ رکھا ہے،تاکہ ہمارا اور آپ کا رزق بھی پاک ہو جائے اور فقیروں، مسکینوں اور غریبوں کے پیٹ بھی بھر جاے۔خدارا ان لمحات کو ہاتھ سے جانے مت دیں،ان یتیموں کو احساس بی پدری ہونے مت دیں، ان غریبوں کو احساس غربت ہونے مت دے۔ان کے خوشی اور غم آپ اور مجھ سے وابسطہ ہیں ان کے ہونٹوں پہ تبسم لانا یا آنکھوں میں آنسو، یہ بھی آپ اور مجھ سے وابسطہ ہیں ۔آج آپ کا ایک جوڑا نیا لباس زیب تن کرانے سے وہ غریب پورا سال اسی خوشی میں رہتا ہے کہ میرا فلاں انشاللہ اس سال بھی عید پہ پھر سے مجھے کپڑے لاکے دے گا،پھر سے مجھے جوتا پہنائے گا،پھر سے مجھے غذا کھلائے گا،میرے ہاتھ میں ہاتھ دے کے مثل پدر تفریح کرائے گا اور دست شفقت میرے بالوں میں پھیر دے گا۔آپ کی ان چھوٹی چھوٹی خدمات سے ان بےسہاروں کے ہونٹوں پہ بکھرا تبسم اور چہرے کی رونق کا اجر خدا ہی بہتر جانتا ہے۔لیکن یہ گوش گزار کروں کہ ان خدمات سے آپ کے دل کو جو سکوں ملتا ہے،سال بھر کی آرام، غذاوں کی لذت اور دنیا کے گوشے و کنار کی گردش سے نہیں ملے گا۔ خدمت ہی اصلی عید ہے
خدا ہمارے ہر روز کو عید قرار دے۔
الہی امین


































