
لندن : سعودی انٹیلیجنس کے سابق سربراہ شہزادہ ترکی الفیصل نے انتباہ کیا ہے کہ سعودی عرب اور اسرائیل کے تعلقات تب تک معمول پر نہیں آ سکیں گے جب تک ایک آزاد فلسطینی ریاست کا قیام عمل میں نہیں آ جاتا۔ لندن کے تھنک ٹینک چتھم ہاؤس میں گفتگو کے دوران امریکہ میں سابق سعودی سفیر شہزادہ ترکی الفیصل نے کہاکہ سعودی عرب کی نظر میں ایک آزاد فلسطین سنہ 1967 والی سرحدوں بشمول مشرقی یروشلم کو مضبوط کرے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ سعودی عرب نے 1981 کے شاہ فہد امن منصوبے اور شاہ عبداللہ کی طرف سے تجویز کردہ 2002 کے عرب امن اقدام کے ذریعے تنازعہ کے پُرامن حل کے لیے کوششوں کی رہنمائی کی ہے۔ شہزادہ ترکی الفیصل نے کہا کہ سعودی عرب نہ صرف غزہ بلکہ مغربی کنارے میں بھی فلسطینیوں پر اسرائیلی حملوں کی مذمت کرنے میں پیش پیش رہا ہے۔ انہوں نے جنگ کے خاتمے کے لیے اسرائیل پر مزید دباؤ نہ ڈالنے پر امریکہ اور دیگر مغربی ممالک کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ صرف نئی برطانوی حکومت نے ہی اسرائیل کو ہتھیاروں کی برآمد کے کچھ لائسنس معطل کرنا شروع کیے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ، اسرائیل اور سعودی عرب کے درمیان علاقائی سلامتی کو مضبوط بنانے اور اقتصادی تعلقات استوار کرنے کے لیے مذاکرات کی بحالی کا خواہشمند ہے لیکن ریاض کا مؤقف یہ ہے کہ اگر وہاں ایک فلسطینی ریاست ہے جس کے وجود میں آنے کو اسرائیل قبول کرتا ہے، تو پھر ہم اسرائیل کے ساتھ (تعلقات کو) معمول پر لانے کے بارے میں بات کر سکتے ہیں۔


































