
صنعا: انصار اللہ تحریک کے سربراہ عبدالمالک الحوثی نے سعودی عرب کے اس الزام کی شدید مذمت کی ہے کہ یمنی فورسز نے مقدس شہر مکہ کو نشانہ بنایا ہے۔ انہوں نے اس دعوے کو گھناؤنا اور مکروہ جھوٹ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کا مقصد ریاض کی جانب سے یمن کے خلاف جاری جارحیت کو جواز فراہم کرنا ہے۔ المسیرة ٹیلی ویژن پر نشر ہونے والی ایک تقریر میں عبدالمالک الحوثی نے کہا کہ سعودی حکومت دانستہ طور پر اس من گھڑت دعوے کو بار بار دہرا رہی ہے تاکہ عالمی فریقین سے فوری اور بغیر تصدیق مذمتی بیانات حاصل کیے جاسکیں اور یمنی عوام کے خلاف اپنے جنگی جرائم کے لیے جھوٹے جواز پیدا کیے جاسکیں۔
عبدالمالک الحوثی نے کہا کہ کوئی بھی عقل مند مسلمان، جس کے اندر اپنی اسلامی شناخت کا ذرہ بھر بھی احترام موجود ہو، اس قوم کے خلاف ایسی بہتان تراشی کو نہیں تسلیم کرے گا اور نہ اس پر یقین کرے گا۔ انہوں نے زور دیا کہ یمنی عوام اور ان کی مسلح افواج اسلامی مقدس مقامات کا انتہائی احترام کرتے ہیں۔ ان کے بقول سعودی الزام یمن کی اسلامی، انسانی اور اخلاقی عزت پر براہ راست حملہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ یمنی عوام کی جانیں، مال اور ان کا پورا وجود مکہ اور تمام اسلامی مقدسات پر قربان ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب اسلام، قرآن یا مقدس مقامات کی حقیقی توہین اسلام کے دشمنوں، بالخصوص صیہونی حکومت، کی جانب سے کی جاتی ہے، جس کے ساتھ سعودی عرب کے تعلقات ہیں، تو یمنی عوام اپنے ایمان کے دفاع کے لیے ہمیشہ سب سے پہلے بڑے پیمانے پر متحرک ہوتے ہیں۔
انصار اللہ کے سربراہ نے سعودی حکومت کی اخلاقی اور سیاسی حیثیت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اس پر شدید منافقت کا الزام عائد کیا۔ انہوں نے کہا کہ ریاض سیاسی تحفظ حاصل کرنے کے لیے مکہ کی حرمت کے پیچھے چھپنے کی کوشش کرتا ہے، جبکہ دوسری جانب اخلاقی بگاڑ کو فروغ دے رہا ہے، صیہونی حکومت کے ساتھ تعلقات معمول پر لا رہا ہے اور یمن کے خلاف برسوں سے جاری جنگ اور ناکہ بندی کر رہا ہے۔ عبدالملک الحوثی نے ان عالمی اور علاقائی فریقین کو بھی شدید تنقید کا نشانہ بنایا جنہوں نے آزادانہ تصدیق کے بغیر صرف سعودی دعووں کی بنیاد پر فوری مذمتی بیانات جاری کیے۔
انہوں نے کہا کہ ان کے ردعمل حقیقی اخلاقی یا مذہبی اصولوں کے بجائے پیٹرو ڈالرز پر مالی انحصار اور محدود سیاسی مفادات سے متاثر ہیں۔ اپنی تقریر کے اختتام پر انصاراللہ کے سربراہ نے ان لوگوں کو چیلنج کیا جو اسلامی مقدس مقامات کے دفاع کا دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ اپنی کوششیں اور حقیقی غم و غصہ حقیقی اور واضح دشمن کی جانب مرکوز کریں۔ انہوں نے صیہونی حکومت کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ اس کے لٹریچر، بیانات اور سیاسی منصوبے کھلے طور پر مسجد اقصیٰ، مکہ اور مدینہ کو خطرات سے دوچار کرتے ہیں۔ انہوں نے عالم اسلام پر زور دیا کہ وہ ریاض کے مبینہ گمراہ کن بیانیے کا شکار ہونے کے بجائے اس حقیقی خطرے کا مقابلہ کرے۔ عبدالملک الحوثی نے کہا کہ یمنی عوام اور ان کی مسلح افواج کو اپنے خلاف کی جانے والی اس مبینہ بہتان تراشی اور جاری ناانصافی کا جواب دینے کا مکمل قانونی، اخلاقی اور مذہبی حق حاصل ہے۔


































