
ایک پوسٹ کسی نے بھیجی جس کا لب لباب یہ تھا کہ شکر ہے خدا نے ایک صحت مند اور تناور درخت کی قربانی کا حکم نہیں دیا ورنہ کرہ ارض سے درختوں کا نام و نشان ہی مٹ جاتا۔
جیسے یہ خوداحمق ہیں ویسے ہی ان کی سوچ بھی۔ اتنی سی بات بھی ان کی موٹی عقل میں نہیں آتی۔ اس کا سیدھا سا جواب یہ ہے کہ اگر یہ حکم اللہ کی طرف سے ہوتا کہ ایک صحت مند درخت اللہ کی راہ میں ہر شخص ہر سال قربان کرے تو ہر طرف درخت ہی درخت نظر آتے۔اپنے گھر کے صحن میں یا گھر کے قریب جس کو بھی تھوڑی جگہ ملتی اس پر درخت لگاتے تاکہ ایک بہترین درخت قربان کر سکے۔ پھربڑا ہونے تک کرہ ارض کو فائدہ دیتا رہتا۔ پھر ہر شخص نے ایک سے زیادہ لگانے تھے تاکہ بہترین کی قربانی کر سکے اور ایک کی قربانی کرتے ہی اس کی جگہ پر نئے درخت لگا دیے جاتے۔
اب آتے ہیں آپ کی اصل ساڑ کی طرف۔ مسلمان ہر سال کروڑوں جانور اللہ کی راہ میں قربان کرتے ہیں۔ لیکن کبھی ایسا نہیں ہوا کہ اگلے سال منڈیوں میں جانوروں کی کمی ہو۔ کبھی ایسا نہیں ہوا کہ کسی نے قربانی کرنی ہو اور اسے جانور نہ ملا ہو۔ اگلے سال تک منڈیاں پھر سے بھر جاتی ہیں۔ بلکہ ہر سال بہت سے جانور بچ جاتے ہیں جو بک نہیں پاتے۔ اس سے کروڑوں غریبوں کو بہترین روزگار مل جاتا ہے۔
اللہ کے ہر حکم میں ایک حکمت ہے لیکن جن کے دل میں کجی ہو انھیں یہ سب سمجھ نہیں آتا۔
ان لبرلز کو سڑانے کے لیے مزید بتا دوں کہ ہم قربانی اس لیے نہیں کرتے کہ اس کے یہ سب فائدے ہیں بلکہ ہم اس لیے کرتے ہیں کہ یہ اللہ کا حکم ہے اور ہمارے پیارے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے خود کی ہے ہر سال اوراس کا حکم دیا ہے۔ لبرلز چیختے رہیں چلاتے رہیں ان کے دلوں پر چھریا ں چلتی رہیں ہم ہر سال قربانی کرتے رہیں گے ان شا ءاللہ۔


































