
ماسکو: روس نے قیمت محدود کرنے والے ممالک اور کمپنیوں کو تیل فروخت کرنے پر پابندی لگادی۔یورپی یونین نے روسی تیل کی درآمدی قیمت کی حد 60 ڈالر فی بیرل مقرر کی ہے جس کے جواب میں روسی صدر ولادیمیر پوٹن نے حکم نامہ جاری کیا ہے۔ حکم نامہ کے تحت ایسے ممالک اور کمپنیوں کو تیل فروخت نہیں کیا جائے گا جو یورپی یونین کی جانب سے عائد کی گئی قیمت کی حد کی تعمیل کرتے ہیں۔ یہ پابندی یکم فروری 2023 سے یکم جولائی تک پانچ ماہ کے لیے لگائی گئی ہے۔ ادھر روسی وزیر خارجہ سرگئی لاروف نے کہا ہے کہ ان کا ملک اب یورپی یونین کے ساتھ مشترکہ منصوبوں میں حصہ نہیں لے گا کیونکہ مغرب نے روس کے خلاف ہائبرڈ جنگ چھیڑ رکھی ہے۔ انہوں نے کہاکہ ماسکو اور یورپی یونین کے تعلقات تاریخی نچلی سطح پر ہیں۔ یوکرین میں کارروائی شروع ہوتے ہی یورپی یونین نے امریکا کے نقش قدم پر چلنا شروع کردیا۔


































