
تہران: ولی امر مسلمین آیت اللہ سید علی خامنہ ای نے ایران کے اسرائیل کے خلاف جوابی کارروائی سے پیچھے ہٹنے کے مفروضوں کو مسترد کردیا اور واضح کیا کہ قرآن کریم کی تعبیر کے مطابق کسی بھی میدان میں حکمت عملی کے بغیر پسپائی اختیار کرنا چاہے وہ عسکری میدان ہو یا سیاسی اور معاشی میدان ہو، خدا کے غضب کا باعث بنتا ہے۔ دشمن کی صلاحیتوں کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنا نفسیاتی جنگ کا حصہ ہے۔ آیت اللہ خامنہ ای نے دشمن کی صلاحیتوں کے بارے میں مبالغہ آمیزی کو ایران کے خلاف نفسیاتی جنگ کے بنیادی اصولوں میں سے ایک قرار دیتے ہوئے کہا کہ انقلاب کے بعد سے دشمن یہ تصور پیدا کرنے کی کوشش کررہا ہے کہ ایران کو امریکہ، برطانیہ اور صیہونیوں سے ڈرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ وہ حکومتیں جو استکبار کے مطالبات کے سامنے سرتسلیم خم کرتی ہیں۔ وہ اپنی قوموں کی صلاحیتوں پر بھروسہ کرلیں اور دشمن کی کھوکھلی طاقت کو پہچان لیں تو اس کے مطالبات کو ردی کی ٹوکری میں پھینک سکتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ شہداء اپنی قربانیوں اور جدوجہد سے اس نفسیاتی جنگ کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے اور اسے ناکام بنا دیا. لہذا شہداء کے ایام مناتے وقت اس سچائی کو اجاگر کیا جائے اور اسے زندہ رکھا جائے۔ ولی امر مسلمین نے قوم کے دلوں سے ہر طرح کے خوف کو نکال باہر کرنے اور انہیں خود اعتمادی کی دولت سے آشنا کرنے کو امام خمینیؒ کا عظیم کارنامہ قرار دیا اور کہاکہ ہماری قوم نے محسوس کیا کہ وہ اپنی صلاحیتوں پر بھروسہ کرکے عظیم کام انجام دینے کی طاقت رکھتی ہے اور دشمن جس طرح اپنے آپ کو ظاہر کر رہا ہے حقیقت میں اتنا طاقتور نہیں ہے۔


































