
اسلام آباد: قائد شہید علامہ عارف حسین الحسینی رح اور ڈاکٹر شہید محمد علی نقوی کے قریبی ساتھی، سابق صدر آئی ایس او پاکستان، ممتاز دانشور، محقق، داعی اتحاد بین المسلمین، ملی یکجہتی کونسل پاکستان کے ڈپٹی سیکریٹری جنرل اور سربراہ البصیرہ، انجینئر، ادیب، علمی، تنظیمی اور قومی شخصیت جناب سید ثاقب اکبر نقوی آج داعی اجل کو لبیک کہہ گئے۔ ثاقب اکبر کی شخصیت کسی تعارف کی محتاج نہیں ہے انہوں نے الیکٹریکل انجینئرنگ کی اعلیٰ نوکری چھوڑ کر ملت تشیع کے کاموں کو ترجیح دی۔ قائد شہید علامہ عارف حسین الحسینی رح اور ڈاکٹر شہید محمد علی نقوی کے ساتھ مل کر دن رات ملت تشیع کی بہتری کے لئے کام کیا۔ سید ثاقب اکبر ایک عالم ، محقق، دانشور، شاعر، مترجم، ہونے کے ساتھ ساتھ سماجی اور سیاسی شخصیت بھی ہیں۔آپ نے قرآنیات، عرفان، فلسفہ، جدید عصری مسائل ، سماجیات ، اخلاقیات ، اتحاد امت، بین الادیان ہم آہنگی ، حالات حاضرہ ، عالمی و علاقائی سیاسی مسائل، نعت، غزل ، مرثیہ ، سلام وغیرہ پر قلم جنبانی فرمائی ہے۔ آپ کی متعدد کتب زیور طباعت سے آراستہ ہو چکی ہیں۔ ثاقب اکبر نے 1995 میں اخوت ریسرچ اکیڈمی قائم کی جس میں تفسیر قرآن،علوم حدیث، کلام جدید، فقہ، اصول فقہ اور فلسفہ جیسے بنیادی اسلامی علوم کے حوالے سے مختلف کام کیے گئے۔ اسی اکیڈمی کے تحت البصیرہ ٹرسٹ کی بنیاد رکھی۔ ان کی نماز جنازہ آج بروز بدھ بائیس فروری کو مسجد امام و بارگاہ صادق جی- نائن اسلام آباد میں بعد از ظہر ایک بجے دن ادا کی جائے گی۔ تدفین شاہ اللہ دتہ ٹاون میں ہوگی۔


































