
نیویارک: اقوام متحدہ نے کہا ہے کہ اگر اسرائیل حماس تنازعہ ماضی کی رفتار سے برقرار رہا تو غزہ کے تباہ شدہ مکانات کی تعمیر کا مرحلہ اگلی صدی تک طویل ہو سکتا ہے۔ اس خدشے کا اظہار اقوام متحدہ نے اپنی ایک رپورٹ میں کیا ہے۔ گزشتہ کئی ماہ سے جاری اسرائیلی فورسز کی بمباری کے نتیجے میں غزہ کی پٹی میں اربوں ڈالر کا نقصان ہو چکا ہے اور یہاں کے کئی گنجان آباد علاقوں کی اونچی عمارات اب ملبے کا ڈھیر ہیں۔ فلسطینی حکام کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ برس سات اکتوبر کو حماس کے اسرائیل پر مہلک حملوں کے بعد سے اسرائیلی بمباری کے نتیجے میں لگ بھگ 80 ہزار گھر تباہ ہو چکے ہیں اور دسیوں ہزار افراد مارے گئے ہیں۔ اقوام متحدہ کے ڈویلپمنٹ پروگرام(یو این ڈی پی) کی اس جائزہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ’ غزہ کی پٹی کے تباہ حال مکانات کی تعمیرِنو میں 80 برس کا عرصہ لگ سکتا ہے۔ یو این ڈی پی نے اپنی رپورٹ میں حالیہ تنازع اور ماضی کے رحجانات کو مدنظر رکھتے ہوئے اس جنگ کے سماجی و معاشی پہلوؤں اور اثرات کا تجزیہ کیا ہے۔


































