
جنیوا: اقوام متحدہ کے ماہرین نے کہا ہے کہ غزہ کی تعمیرِ نو اس وقت تک کامیاب نہیں ہو سکتی جب تک اسرائیلی قبضہ ختم نہیں ہوتا اور فلسطینیوں کے حقِ خودارادیت کو یقینی نہیں بنایا جاتا۔ انہوں نے کہا کہ جب تک فلسطینیوں کی بے دخلی اور حقوق کی خلاف ورزیوں کا خاتمہ نہیں ہوتا، بحالی کا عمل مؤثر نہیں ہو سکتا۔ انہوں نے کہا کہ جب تک فلسطینیوں کی بے دخلی اور حقوق کی خلاف ورزیوں کا خاتمہ نہیں ہوتا، بحالی کا عمل مؤثر نہیں ہو سکتا۔ ماہرین نے غزہ ریپڈ ڈیمیج اینڈ نیڈز اسیسمنٹ کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ 3 لاکھ 71 ہزار سے زائد رہائشی یونٹس تباہ یا متاثر ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تقریباً 19 لاکھ افراد بے گھر ہیں جبکہ 60 فیصد سے زیادہ آبادی اب بھی رہائش سے محروم ہے۔ تعمیر نو کے لیے درکار مالی ضروریات 71 ارب ڈالر سے زائد بتائی گئی ہیں۔ بیان میں کہا گیا کہ خواتین، معذور افراد اور بزرگوں کو اس بحران میں سب سے زیادہ مشکلات کا سامنا ہے۔
ماہرین نے خبردار کیا کہ اگر شفاف اور انسانی حقوق پر مبنی نظام نہ اپنایا گیا تو یہ عمل صرف منافع کے حصول کا ذریعہ بن سکتا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ تعمیر نو میں فلسطینیوں کی شمولیت، شفافیت اور خودارادیت کو مرکزی حیثیت دی جائے، ورنہ یہ عمل دیرپا ناانصافی کو مزید گہرا کر سکتا ہے۔


































