
کربلا کی معرفت، اسلامی تعلیمات کی اوج و بلندی اور اقدار کا بہترین خزانہ ہے لہٰذا اِس کی قدر کرنی چاہیے اور ہمیں چاہیے کہ ہم اِن تعلیمات کو دنیا کے سامنے پیش کریں۔
میرے دوستو! اور اے حسین ابن علی پر ایمان رکھنے والو! یہ امام حسین ہی ہیں جو دنیا کو نجات دے سکتے ہیں، صرف شرط یہ ہے کہ ہم کربلا کے چہرے اور اُس کی تعلیمات کو تحریف سے مسخ نہ کریں۔
آپ اِس بات کی ہرگز اجازت نہ دیں کہ تحریفی مفاہیم، خرافات اور بے منطق کام، لوگوں کے چشم و قلب کو سید الشہدا کے چہرہ پُرنور سے دور کردیں؛ ہمیں اِن تحریفات اور خرافات کا مقابلہ کرنا چاہیے۔
میری مراد صرف دو جملے ہیں؛ ایک یہ کہ خود واقعہ کربلا اور سید الشہدا کی تحریک؛ منبر پر فضائل و مصائب بیان ہونے کی شکل میں اُسی قدیم و روایتی طور پر باقی رہے یعنی شب عاشورا اور صبح و روز عاشورا کے واقعات کو بیان کیا جائے۔
عام نوعیت کے حادثات و واقعات حتی بڑے بڑے واقعات، زمانہ گذرنے کے ساتھ ساتھ اپنی تاثیر کھو بیٹھے ہیں لیکن واقعہ کربلا اپنی تمام تر جزئیات کے ساتھ اِسی منبر کی برکت سے آج تک باقی ہے، البتہ کربلا کے واقعات کو مستند طور پر بیان کرنا چاہیے۔


































