
ڈھاکا : بنگلہ دیش میں حکومت کیخلاف ایک ماہ سے جاری طلبا کا احتجاج رنگ لے آیا۔ ایک ماہ سے جاری مظاہروں کے بعد وزیر اعظم شیخ حسینہ واجد نے استعفیٰ دے دیا۔ آرمی چیف نے حسینہ واجد کو مستعفی ہونے کے لیے 45 منٹ کی ڈیڈ لائن دی تھی۔ حسینہ واجد نے محفوظ مقام پر منتقلی سے قبل تقریر ریکارڈ کروانے کی کوشش کی لیکن اُنہیں موقع نہیں دیا گیا۔ حسینہ واجد کے استعفیٰ کے بعد ہزاروں لوگ وزیر اعظم حسینہ واجد کی سرکاری رہائش گاہ میں داخل ہوگئے۔ عالمی میڈیا کے مطابق شیخ حسینہ واجد بھارت منتقل ہوگئی ہیں۔ بنگلہ دیشی آرمی چیف قمر الزماں نے قوم سے خطاب میں ملک میں عبوری حکومت بنانے کا اعلان کیا ۔ ان کا کہنا تھا کہ قوم کے تمام مطالبات پورے کئے جائیں گے۔ ملک مخلوط حکومت کے ذریعے چلایا جائے گا، تمام فیصلے فوج کرے گی۔ انہون نے کہا کہ سڑکوں پر تشدد اور قتل کا سلسلہ بند کیا جائے۔
بنگلا دیش میں کوٹا سسٹم کیخلاف ایک ماہ سے جاری مظاہروں میں تین سو افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔ ملک بھر میں غیر معینہ مدت کے لئے کرفیو نافذ ہے، ریلوے سروسز غیر معینہ مدت کیلئے معطل ہے۔


































