
اسلام آباد: پاکستانی وزیراعظم شہباز شریف نے چیف جسٹس کے اختیارات میں کمی کا مطالبہ کردیا۔ قومی اسمبلی کے اجلاس سے خطاب میں شہبازشریف نے کہاکہ عدلیہ کے اندر سے اٹھنے والی آوازیں امید کی نئی کرن ہیں۔ حقائق کے باوجود عمران خان کو ضمانتوں پر ضمانتیں دی جا رہی ہیں۔ اگر یہ انصاف ہے تو پاکستان کا اللہ حافظ ہے۔ ہمارے ہاتھ باندھ کرعدالتوں میں کھڑا کیا جاتا تھا ہمیں بتایا جائے اعلیٰ عدالتوں کے کتنے جج کرپشن پر نکالے گئے؟ جب کہ سیاست دانوں کے خلاف آنکھیں بند کرکے کیسز بن جاتے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ آئین نے اختیارات کی تقسیم واضح کردی، مقننہ عدلیہ اور انتظامیہ کے اختیارات بیان کردئیے، ریڈلائن لگادی کہ کوئی اس کو عبور نہیں کرسکے گا۔ شہباز شریف نے چیف جسٹس کے اختیارات کم کرنے کے لیے قومی اسمبلی سے قانونی سازی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہاکہ ہم نے قانون سازی نہ کی تو مورخ معاف نہیں کرے گا۔ قومی اسمبلی کو اس معاملے پر نوٹس لینا ہوگا۔ اس سے پہلے کے دیر ہوجائے ایوان کو ٹھوس اقدام اٹھانا ہوگا۔ وزیراعظم کے خطاب کے بعد۔
وفاقی کابینہ نے چیف جسٹس آف پاکستان کے ازخود نوٹس لینے اور سپریم کورٹ کے بینچوں کی تشکیل کے اختیارات میں کمی کے حوالے سے بل کی منظوری دے دی جس کے بعد اسے قومی اسمبلی میں پیش کردیا گیا۔
سپریم کورٹ (پریکٹس اینڈ پروسیجر) بل 2023 میں کہا گیا ہے کہ آئین کے آرٹیکل 184(3) کے تحت عدالت عظمیٰ کی جانب سے اصل دائرہ اختیار کے استعمال کا موضوع مختلف فورمز پر زیر بحث تھا۔


































