
اسکردو: صدر انجمن امامیہ بلتستان سید باقر الحسینی نے جی بی کے عام انتخابات کے حوالے سے ایک ضابطہ اخلاق جاری کیا ہے۔ بیان کے مطابق سرزمینِ بلتستان، جو عشقِ اہلِ بیتؑ، شعور، وقار اور دینی اقدار کی امین ہے، وہاں انتخابی عمل بھی اعلیٰ اخلاق، سنجیدگی اور قومی ذمہ داری کا مظہر ہونا چاہیے۔ اسی مقصد کے پیشِ نظر انجمن امامیہ بلتستان کی جانب سے تمام سیاسی جماعتوں، آزاد امیدواروں اور عوام الناس کے لیے درج ذیل ضابطۂ اخلاق پیش کیا جاتا ہے۔
تمام نمائندہ گان، خواہ کسی سیاسی جماعت سے تعلق رکھتے ہوں یا آزاد امیدوار ہوں، عوام کے سامنے اپنا واضح منشور عملی منصوبہ اور کارکردگی پیش کریں تاکہ قوم باشعور انداز میں اپنے مستقبل کا فیصلہ کر سکے۔ رہبرِ شہید کی تدفین ابھی انجام نہیں پائی، نیز ماہِ ذوالحجہ عبادات، احترام اور ایامِ شہادت کا مہینہ ہے۔ لہٰذا انتخابی مہم کے دوران رقص و سرور، شور و غوغا، ڈھول، میوزک اور غیر سنجیدہ سرگرمیوں سے مکمل اجتناب کیا جائے تاکہ دینی و اخلاقی اقدار مجروح نہ ہوں۔ تمام سیاسی جماعتیں اور امیدوار انتخابی مہم کے دوران ایک دوسرے پر الزام تراشی، کردار کشی اور ذاتیات پر مبنی گفتگو سے اجتناب کریں۔ اختلافِ رائے کو شائستگی، برداشت اور مہذب انداز میں پیش کیا جائے تاکہ اس پُرامن خطے کا امن، اخوت اور بھائی چارہ برقرار رہے۔
باشعور قومیں اپنے نمائندے نعروں، شور شرابے یا وقتی جذبات کی بنیاد پر نہیں بلکہ کردار، دیانت، خدمت اور کارکردگی کی بنیاد پر منتخب کرتی ہیں۔ تمام پڑھے لکھے نوجوانوں، جوانوں اور اہلِ شعور سے مؤدبانہ گزارش ہے کہ وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ ڈھول، رقص یا وقتی جوش کے تحت نہ کریں بلکہ امیدواروں سے ان کا منشور، تعلیم، اہلیت اور عوامی خدمت کا عملی خاکہ طلب کریں، کیونکہ مضبوط فیصلے ہی مضبوط قوموں کی بنیاد بنتے ہیں۔


































