
نیویارک: امریکا نے خلیجی ممالک کے تعاون سے آبنائے ہرمز کی صورتحال سے متعلق ایک نئی قرارداد کے مسودے کی تیاری شروع کردی۔ اقوامِ متحدہ میں امریکا کے مندوب مائیک والٹز نے بتایا کہ نئی قرارداد کا مقصد ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کو بند کرنے کی مذمت کرنا ہے۔ کیونکہ اس اقدام سے عالمی معیشتیں متاثر ہو رہی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس مسودے میں آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں پر ایرانی حملوں، بارودی سرنگیں بچھانے اور علاقے میں فیس عائد کرنے جیسے اقدامات کی بھی مذمت شامل ہے۔ امریکی مندوب نے زور دیا کہ قرارداد میں ایران کو بین الاقوامی قانون کی مبینہ خلاف ورزیوں پر جوابدہ ٹھہرایا جائے گا، اس سے مطالبہ کیا جائے گا کہ وہ آبنائے ہرمز میں بچھائی گئی بارودی سرنگوں کے مقامات ظاہر کرے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ امریکا اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کام کر رہا ہے کہ بین الاقوامی آبی گزرگاہوں کو بطور ہتھیار استعمال نہ کیا جا سکے، اور ٹرمپ انتظامیہ آبنائے ہرمز میں جہازوں کی محفوظ آمدورفت کو یقینی بنانے پر زور دے رہی ہے۔


































