
لاہور : سابق وزیراعظم عمران خان نے قاتلانہ حملے کے بعد حکومت کیخلاف لانگ مارچ ملتوی کردیا۔قاتلانہ حملے کے بعد اپنے پہلے پیغام میں عمران خان نے کہا کہ مجھے توہین رسالت کے الزام پر سلمان تاثیر کی طرح قتل کرنے کا منصوبہ بنایا مگر اللہ نے محفوظ رکھا، ٹھیک ہوتے ہی دوبارہ لانگ مارچ کی کال دوں گا البتہ شہباز شریف، رانا ثنا اللہ اور میجر جنرل کا استعفیٰ آنے تک ملک گیر احتجاج جاری رہے گا۔ چار لوگوں نے بند کمرے میں مجھے مروانے کا فیصلہ کیا۔ ویڈیو بنا کر رکھی ہے۔ کہا تھا مجھے کچھ ہوا تو ویڈیوز جاری کردینا۔انہوں نے کہاکہ ملک میں اسٹیبلشمنٹ کو عادت ہوگئی تھی کہ سازش کے تحت تبدیلی لائی جائے لیکن اس مرتبہ قوم نے ان کا ساتھ دینے سے انکار کردیا۔ الیکشن کمشن کو ہمیں نااہل کرنے کے لیے استعمال کیا گیا، ان سب کے باوجود پی ٹی آئی جیت گئی۔چیئرمین پی ٹی آئی نے مزید کہا کہ حکومت کبھی تحریک عدم اعتماد میں ناکام نہیں ہوتی، وسائل ہوتے ہیں، میرے خلاف تحریک عدم اعتماد کو کامیاب بنانے کے لیے ارکان کی منڈی لگی تھی، ہم زیادہ پیسے دے سکتے ہیں لیکن ہم نے فیصلہ کیا ہم ایسا نہیں کریں گے۔عمران خان نے کہا کہ امریکی عہدیدار ڈونلڈ کا پیغام آیا کہ عمران خان کو ہٹاؤ اور اگلے دن تحریک عدم اعتماد آگئی۔ادھر پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ نے عمران خان کے فوج اور ایک اعلیٰ فوجی افسر کے خلاف بیان کو بے بنیاد اور غیر ذمہ دارانہ قرار دے دیا۔آئی ایس پی آر نے حکومت سے بغیر ثبوت ادارے اور اس کے اہلکاروں کے خلاف ہتک عزت اور جھوٹے الزامات کے ذمہ داروں کیخلاف قانونی کارروائی شروع کرنے کا مطالبہ بھی کیا۔


































