
اسلام آباد: اسلام آباد ہائی کورٹ نے لاپتہ افراد کو بازیاب کرانے کا حکم دے دیا۔ چیف جسٹس اطہر من اللّٰہ نے ریمارکس دیے ہیں کہ عدالتی حکم پر عمل درآمد نہ ہوا تو وزیرِ اعظم عدالت میں پیش ہوں۔ 2013 کا سپریم کورٹ کا آرڈر ہے۔ یہ بہت سیریس معاملہ ہے، نیشنل سیکیورٹی سے متعلق ہے ،کیوں کہ فوج اور اسکی ایجنسیوں پر اس قسم کے معاملات میں ملوث ہونے کا الزام ہے۔ سپریم کورٹ کے آرڈر کے خلاف کوئی نظرثانی درخواست دائر ہوئی ؟ اگر کلبھوشن یادیو کی فیملی سے میٹنگ کرا سکتے ہیں تو مسنگ پرسنز کی فیملیز کے ساتھ کیوں نہیں؟۔سماعت کے دوران فرحت اللہ بابر نے عدالت سے کہا کہ میری گزارش یہ ہے کہ میں ثبوت دوں گا ریاست کی ایجنسیز اس میں ملوث ہیں۔ 2019 میں آئی ایس پی آر نے کہا تھا کہ تمام لاپتہ افراد تو نہیں کچھ ہمارے پاس ہیں ہم ایک سیل بنائیں گے۔چیف جسٹس نے کہا کہ آئی ایس آئی صرف حکومت کا ایک ڈیپارٹمنٹ ہے ، آئی ایس آئی وزیراعظم کے ڈائریکٹ کنٹرول میں ہے ، پبلک آفس ہولڈرز کو اپنی ذمہ داری شفٹ کرنے کی اجازت نہیں دے گی ۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ کوئی بے بس نہیں ہر ایک نے اپنی ذمہ داری پوری کرنی ہے ۔ اگر کوئی بات نہیں مانتا تو اس کے خلاف مس کنڈکٹ کی کارروائی ہونی چاہیے ۔ اگر کوئی ملٹری پرسن بھی ایسا کرتا ہے تو اس کا کورٹ مارشل ہونا چاہیے ۔چیف جسٹس نے کہا کہ فوج کا وقار ہمارے مدنظر ہے اگر وہ ملوث ہیں تو ان کو بھی قابل احتساب ہونا چاہئے۔ نیشنل سیکیورٹی کمزور ہوتی ہے جب ان (لاپتا افراد کی فیملیز )کو شک ہو کہ آرمڈ فورسز ملوث ہیں۔ نو دس سال حکومت کرنے والے چیف ایگزیکٹو نے جب کتاب میں لکھ دیا کہ یہ ریاست کی پالیسی تھی تو پھر کیا رہتا ہے۔ عدالت آپ کو کچھ وقت دے رہی ہے اگر کچھ نہ ہوا تو پھر چیف ایگزیکٹو کو بلائیں گے۔ بعد ازاں عدالت نے کیس کی مزید سماعت 9 ستمبر تک ملتوی کردی۔


































