
دی ہیگ: بنگلا دیش کی سابق وزیراعظم شیخ حسینہ اور ان کے وزراء اور اعلیٰ پولیس حکام کیخلاف نسل کشی اور انسانیت کے خلاف جرائم کا مقدمہ چلانے کیلئے عالمی فوجداری عدالت میں درخواست دائر کردی گئی۔ عالمی عدالت میں یہ درخواست طلبا تحریک کے دوران مارے گئے نویں جماعت کے طالب علم عارف احمد صیام کے والد بلبل کبیر نے جمع کرائی ہے۔ درخواست میں حسینہ واجد، سابق وزیر داخلہ، وزیر ٹرانسپورٹ، وزیر آئی ٹی اور عوامی لیگ کے کئی عہدیداروں کے نام شامل ہیں۔ عدالت کی تحقیقاتی ایجنسی سے درخواست کی گئی ہے کہ وہ الزامات کی مکمل جانچ کرے اور ملزمان کے خلاف مناسب قانونی کارروائی کرے۔ درخواست میں الزام لگایا گیا ہے کہ ملزمان نے طلباء کے مظاہرین کے خلاف پرتشدد کریک ڈاؤن کا منصوبہ بنایا، جس کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر ہلاکتیں ہوئیں اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں ہوئیں۔ درخواست کے مطابق حسینہ واجد نے ایک پریس کانفرنس کے دوران اشتعال انگیز بیانات دیے اور مظاہرین کے خلاف تشدد کو ہوا دی گئی۔ ادھر حسینہ واجد اور چوبیس دوسرے افراد کیخلاف ڈھاکا میں طالب علم کے قتل کا مقدمہ درج کرلیا گیا۔ دوسری جانب ڈھاکہ کی عدالت نے حسینہ واجد سمیت سات افراد کے خلاف قتل کے مقدمے میں تحقیقاتی رپورٹ پیش کرنے کے لیے 25 ستمبر کی تاریخ مقرر کردی ہے۔


































