
واشنگٹن: امریکا نے مشرق وسطیٰ میں مزید فوجیوں کی تعیناتی اور اسلحہ بھیجنے کا اعلان کردیا ہے۔ ترجمان پینٹاگون کا کہنا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں مزید فوجی تعینات کر رہے ہیں۔ بھیجے جانیوالے اسلحہ میں بی 52 بمبار، فائٹر اسکواڈرن اینڈ ٹینکر ایئرکرافٹ، بیلسٹک میزائل ڈیفنس ڈسٹرائیر شامل ہیں، امریکی بحری بیڑہ یو ایس ایس ابراہام لنکن جلد مشرق وسطیٰ کے لیے روانہ ہو گا۔ پینٹاگون کے مطابق اسرائیل کے دفاع اور حوثیوں کے حملے سے اتحادیوں کی حفاظت یقینی بنانے کے لیے یہ اقدامات کئے جارہے ہیں۔ امریکی میڈیا کا کہنا ہے کہ یہ تعیناتی مشرق وسطیٰ میں ملٹری ری ایڈجسٹمنٹ کا حصہ ہے۔
ایرانی کمانڈر بریگیڈیئر جنرل غلام رضا سلیمانی نےکہاہے کہ اسرائیلی اور امریکی حکومت نے ایران کی صلاحیتوں کا غلط اندازہ لگایا ہے اور جلد ہی یہ غلطیاں ان کیلئے تباہ کن دھچکے کا باعث بنیں گی۔ آپریشن الاقصیٰ طوفان نے اسرائیلی حکومت کو ایک ناقابل تلافی شکست دی ہے اس سے پہلے ایران کی اسٹریٹجک کونسل برائے خارجہ تعلقات کے سربراہ کمال خرازی نے خبردار کیا تھا کہ ایران کے وجود کو خطرہ ہوا تو وہ اپنا ایٹمی نظریہ تبدیل کرسکتے ہیں۔


































