Mon Aug 24, 2026

معاشی دباؤ فوجی شکست کا اعتراف ہے، پاسداران انقلاب یورپی یونین کا ای ون منصوبے کا ٹینڈر واپس لینے کا مطالبہ جارحیت نے خود امریکا کو معاشی مشکلات سے دوچار کردیا ہے، قالیباف ٹرمپ کی شخصیت پرستی، امریکی صدر نے ہر چیز پر اپنا نام اور چہرہ نمایاں کرنا شروع کردیا صیہونی فوج اور آبادکاروں کے حملے، 4 فلسطینی شہید، 19 زخمی چین کی مدد کے بغیر ایران کو تنہا کرنا ممکن نہیں، نیو یارک ٹائمز یوکرین نے اپنے لئے جہنم کے دروازے کھول لئے ہیں، پیوٹن ایران سے معاشی روابط برقرار رکھنے والے ممالک بھی معاشی تنہائی کا شکار ہوسکتے ہیں، امریکا پینٹاگون پر تنقید، امریکی عسکری اخبار کے چیف ایڈیٹر، پبلشر اور رپورٹر برطرف ثالثی کوششیں، پاکستانی فیلڈ مارشل کل ایران کا دورہ کرینگے ای ون منصوبہ فلسطینی ریاست کا امکان خطرہ میں ڈال رہا ہے ، مسلم ممالک امریکا اور کینیڈا کے تجارتی مذاکرات آخری وقت میں ناکام ایران امریکی شرائط پر معاہدہ کرنے کیلئے تیار نہیں، ٹرمپ کا اعتراف اسلام آباد میں 6 ماہ کیلئے فوج تعیناتی کی منظوری ایران کا عراق پر مقامی کرنسیوں میں تجارت بڑھانے پر زور

روزانہ کی خبریں

اکثر اوقات والدین سوالات پوچھتے ہیں کہ ہمارا بچہ بالکل پڑھنے والا نہیں

اور جب بھی اسکول سے آتا ہے تو بیگ پھینک دیتا ہے اور اپنے دوستوں کے ساتھ کھیل کود یا کمپیوٹر گیمز میں مگن ہو جاتا ہے حتی اسے ہوم ورک بھی بار بار کہنے کے بعد پاس بٹھا کر کروانا پڑتا ہے۔ کیا آپ اس مشکل کے حل کے لیے راہنمائی کر سکتے ہیں؟

بچوں کو مطالعے کا عادی بنانے کے یہ 7 راہ حل مفید ہو سکتے ہیں۔

آہستہ آہستہ عادی بنائیے
ہر روز مثلا سونے سے پہلے اپنے بچے کے لیے کسی کہانی وغیرہ کی کتاب پڑھیں تاکہ اس کا ذہن آہستہ آہستہ کتاب پڑھنے کی طرف مائل ہو۔

لائبریری یا بک ڈپو پر لے جائیے
بچوں کا ایسی جگہ جانا جہاں بہت زیادہ لوگ کتاب کے مطالعہ میں مگن ہوں یا کتاب خریدنے میں مصروف ہوں، یہ کام ان میں کتاب پڑھنے کے شوق میں اضافے کا باعث بنتا ہے۔

مطالعہ کا ماحول بنائیں
گھر میں ایسا ماحول بنایا جائے جس میں بچہ آرام و سکون سے مطالعہ کر سکے۔ یہ اس وقت ممکن ہے  جب والدین گھر کا ایک حصہ مطالعے کے لیے مخصوص کر دیں یا کوئی وقت مخصوص کریں جس میں گھر کے اکثر افراد مطالعہ میں مصروف ہوں اور کسی نہ کسی موضوع پر تبادلہ خیال کریں۔

بچوں کے سامنے پڑھیں
والدین محترم! ایسی جگہ کا انتخاب کریں جس میں بچے آپ کو دیکھ رہے ہوں کیونکہ بچے بہت سی چیزیں والدین کو دیکھ کر انجام دیکھتے ہیں۔ اسی لیے آپ نے دیکھا ہو گا کہ اگر پڑھ رہے ہوں تو چھوٹا بچہ خود ہی اپنا بیگ اٹھا کر آپ کے پاس آ جاتاہے اور ڈرائنگ یا ہوم ورک کرنے میں لگ جاتا ہے۔

بچوں کو انتخاب کا موقع دیں
بچوں کو موقع دیں کہ وہ خود بک ڈپو سے کتاب خریدیں یا لائبریری میں جائیں اور کتابیں دیکھیں۔ ایسا اس لیے کہ بچے جو کتاب خود خریدتے ہیں پھر وہ اسے شوق سے پڑھتے بھی ہیں۔ جیسے اپنی پسند کی پینٹ یا شرٹ لیں تو وہ بار بار اسی کو پہننے کا اسرار کرتے ہیں۔ کتاب خوانی میں بھی ایسے ہی ہوتا ہے۔

پسندیدہ کتب کا دوبارہ مطالعہ کیجیے
ممکن ہے بار بار ایک کہانی کی کتاب کا پڑھنا آپ کے لیے تھکاوٹ اور بورنگ کا باعث بنے لیکن بچوں کے لیے ایسا نہیں ہے۔ بچے چاہتے ہیں کہ جو کہانی ان کو پسند آئی تھی اس کو بار بار سنیں، پڑھیں اور اس کی تصاویر کو دیکھیں۔

مطالعے کی مہارت سیکھیں
آپ ایک استاد نہیں لیکن اپنے بچوں کے آپ پہلے استاد ہیں کیونکہ بچہ بہت سی چیزیں والدین سے سیکھتا ہے لہذا کتاب کو کیسے پڑھا جائے اس کے مفاہیم کیسے بچوں میں باآسانی منتقل کیے جائیں، آپ کا یہ کام بچوں میں مزید شوق پیدا کرے گا اور وہ بھی چاہیں گے زیادہ سے زیادہ زندگی میں مطالعہ کریں اور ایک معاشرے میں کامیاب انسان کی حثییت سے پہچانے جائیں۔

مزید پڑھیے

Most Popular