
رپورٹ: سید عدیل زیدی
افغان سرحد سے متصل پاکستان کے قبائلی علاقہ جات میں گذشتہ چند ماہ کے دوران دہشتگردوں کی کارروائیوں میں غیر معمولی اضافہ دیکھا گیا ہے، اس کے علاوہ سانحہ پشاور سمیت ملک کے مختلف شہروں میں ہونے والے دہشتگری کے متعدد واقعات کے تانے بانے بھی افغان سرزمین سے ملے ہیں۔ 14 اپریل کو شمالی وزیرستان میں دہشتگردوں کیساتھ جھڑپ میں پاک فوج کے 7 جوان شہید بھی ہوئے۔ اس افسوسناک واقعہ کے بعد ایک خبر عالمی میڈیا کی زینت بنی کہ پاکستان کے جیٹ طیاروں نے افغانستان میں داخل ہو کر بمباری کی، جس کے نتیجے میں تحریک طالبان پاکستان کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا۔ افغانستان میں قائم طالبان کی حکومت کی جانب سے کہا گیا کہ پاکستانی فوج کے جیٹ طیاروں نے افغانستان کے صوبہ کنڑ اور صوبہ خوست کے کچھ حصوں پر گولہ باری کی، جس سے بھاری جانی نقصان ہوا ہے۔
افغان حکومت نے کابل میں موجود پاکستانی سفیر منصور خان کو بھی طلب کیا، واقعہ پر باقاعدہ احتجاج ریکارڈ کرایا اور آئندہ ایسے حملے نہ کیے جانے کا مطالبہ کیا۔ طالبان کا کہنا تھا کہ انہوں نے پاکستانی سفیر سے کہا ہے کہ خوست اور کنڑ سمیت تمام عسکری خلاف ورزیوں کو روکنا ضروری ہے اور اس طرح کے واقعات سے دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی پیدا ہوسکتی ہے، جس کے برے نتائج ہوں گے۔ بعد ازاں اتوار کے روز پاکستان کے دفتر خارجہ کیجانب سے بیان جاری ہوا، جس میں کہا گیا کہ دہشتگرد افغان سرزمین کو پاکستان کے اندر کارروائیوں کیلئے استعمال کر رہے ہیں اور اس سلسلے میں گذشتہ چند ماہ میں بارہا طالبان حکومت سے پاک، افغان سرحدی علاقے کو محفوظ بنانے کی درخواست کی۔ پاکستانی وزارت خارجہ نے افغانستان سے پاکستانی فورسز کو نشانہ بنانے کے واقعات میں اضافے پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دہشتگرد افغان سرزمین کو پاکستان میں کارروائیوں کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔ تاہم پاکستان، افغانستان کی آزادی، خود مختاری اور علاقائی سالمیت کا احترام کرتا ہے۔
شمالی وزیرستان میں سکیورٹی فورسز پر حملوں کے بعد پاکستانی حکام نے افغان سفیر کو ایک خط بھی بھیجا تھا، جس میں کہا گیا تھا کہ حملہ آور افغانستان سے آئے تھے۔ اس ’’بمباری‘‘ کی گونج ملک کی قومی اسمبلی میں بھی اس وقت سنائی دی، جب شمالی وزیرستان سے رکن قومی اسمبلی محسن داوڑ نے کہا کہ پاکستان کے جیٹ طیاروں نے پاک افغان سرحدی علاقے میں بمباری کی اور اس واقعے کی تحقیقات کروائی جائیں۔ ایم این اے علی وزیر کا کہنا تھا کہ پاکستانی جیٹ طیاروں نے بمباری کی، لیکن معلوم نہیں کتنی ہلاکتیں ہوئی ہیں، اس موقع پر بھی محسن داوڑ نے بلند آواز میں بتایا کہ چالیس سے زیادہ لوگ جاں بحق ہوئے ہیں۔ افغانستان میں ہونے والے اس مبینہ فضائی حملہ کے حوالے سے ایک قومی انگریزی اخبار ایکسرپیس ٹریبیون نے گذشتہ روز ایک خبر جاری کی کہ پاکستانی تیار کردہ ڈرون طیاروں نے تاریخ میں پہلی بار کسی غیر ملکی سرزمین پر کارروائی کرتے ہوئے اپنا ہدف کامیابی سے حاصل کیا ہے۔
ایکسرپیس ٹریبیون کے مطابق گذشتہ ہفتے افغان صوبہ خوست اور کنڑ میں تحریک طالبان پاکستان کے مراکز پر جیٹ طیاروں نے نہیں بلکہ پاکستانی ڈرون نے میزائل حملے کئے۔ اخبار کے مطابق حکام نے واضح کیا ہے کہ افغان سرحد کے قریب تحریک طالبان کے ان مراکز کو نشانہ بنایا گیا، جہاں گذشتہ مہینے پاکستانی سکیورٹی فورسز پر حملوں کی منصوبہ بندی کی گئی۔ ان حکام کے مطابق جن علاقوں کو نشانہ بنایا گیا، وہ تحریک طالبان پاکستان کے قبضہ کئے گئے علاقے ہیں، جو خود افغان طالبان کے لیے نوگو ایریاز ہیں۔ ان ڈرون حملوں کے نتیجے میں ٹی ٹی پی کو کافی نقصان ہوا، اسی لیے انہوں نے علاقہ کی ناکہ بندی کرکے کسی کو حتیٰ کہ افغان طالبان کو بھی آنے نہیں دیا، تاکہ حملے کے دوران ہلاک ہونے والے اہم کمانڈروں کی ہلاکت چھپائی جا سکے۔ تاہم انہوں نے خیال ظاہر کیا کہ آئندہ چند دنوں میں اس حوالے سے مزید تفصیلات جاری کر دی جائیں گی۔
واضح رہے کہ گذشتہ دو ہفتوں کے دوران خیبر پختونخوا کے قبائلی اضلاع شمالی وزیرستان اور باجوڑ میں فوج پر حملے کئے گئے، اس کے علاوہ ٹانک میں فوجی کیمپ پر حملہ کیا گیا اور اہلکاروں کو یرغمال بنانے کی صورتحال پیدا کرنے کی کوشش کی گئی، ڈیرہ اسماعیل خان میں بھی پولیس موبائل پر میزائل حملہ کیا گیا۔ اس صورتحال میں پاکستانی حکومت نے افغانستان کی سرحد پر کارروائی کا فیصلہ کیا اور باقاعدہ مصدقہ اطلاعات پر ان مراکز کو نشانہ بنایا گیا، جہاں پر ٹی ٹی پی کے اہم کمانڈرز موجود تھے۔ ان حکام کے مطابق ٹی ٹی پی نے افغان سرحد کے قریب اپنے گاؤں آباد کیے ہوئے ہیں، جہاں پر افغان حکام کی بھی نہیں چلتی۔ حکام کے مطابق افغانستان کی حکومت پر کئی بار زور دیا گیا کہ وہ تحریک طالبان کو مذاکرات کی میز پر لائیں یا ان کے خلاف کارروائی کریں، جس میں وہ ناکام رہے، اسی لیے مجبوری میں اپنے دفاع کے لیے پاکستانی فورسز کو یہ اقدام اٹھانا پڑا۔
ایک سینیئر صحافی کیساتھ بات چیت کرتے ہوئے بتایا کہ پاکستان کی فورسز نے کنڑ اور خوست میں ٹی ٹی پی کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا ہے، جس میں کئی دہشتگردوں کے مارے جانے کی اطلاعات ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اسلام آباد ٹی ٹی پی کو اپنے لئے خطرہ سمجھتا ہے، افغان طالبان کی جانب سے تحریک طالبان پاکستان کیخلاف موثر کارروائی نہ کئے جانے کے بعد یہ اقدام اٹھایا گیا۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ طالبان کی حکومت نے پاکستان کو یقین دہانی کرائی تھی کہ ان کے دور حکومت کے دوران افغان سرزمین پاکستان کیخلاف استعمال نہیں ہوگی، اس کے علاوہ طالبان نے اسی قسم کی یقین دہانی چین کو بھی کرائی تھی، تاہم پاکستان کیخلاف افغان سرزمین تسلسل کیساتھ استعمال ہو رہی ہے۔ اس وقت پاکستان اور طالبان حکومت کے درمیان سرحدی معاملات کے حوالے سے کافی حد تک کشیدگی پائی جاتی ہے، یہ کشیدگی افغانستان میں دہشتگردوں کیخلاف بلاامتیاز کارروائیوں کو یقینی بنا کر ہی ختم کی جاسکتی ہے، تاہم طالبان اب بھی ٹی ٹی پی کے حوالے سے قدرے نرم گوشہ اسی وجہ سے رکھتے ہیں کہ وہ فی الحال افغانستان کیلئے نقصان دہ نہیں۔


































