
اسلام آباد : پاکستانی اور عراقی حکومت کی نااہلی کے باعث لاکھوں پاکستانی زائرین رل گئے ہیں مسئلے کا حل نہ نکالا گیا تو ڈی چوک کی طرف عوامی مار چ ہوگا۔ چیئرمین مجلس وحدت مسلمین پاکستان علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے اسلام آباد میں نیوز کانفرنس میں کہا کہ افسوس کی بات ہے کہ چہلم امام حسینؑ کے موقع پر حکومت کوئی سہولت فراہم نہیں کر رہی جن شہریوں کے پاس ویزے ہیں، ٹکٹس ہیں مگر انہیں یہاں سے خالی جہاز بھجوائے جا رہے ہیں زائرین کا اربوں روپے کا نقصان ہو رہا ہے مگر حکومت ٹس سے مس نہیں ہو رہی ایران کی حکومت کی کوششوں سے ایران کے 50 لاکھ زائرین کو اجازت مل گئی مگر افسوس پاکستانی وزیراعظم ، وزیر خارجہ سمیت دیگر عہدیداران بول ہی نہیں رہے۔ زائرین کی ایک بڑی تعداد بارڈر پر بے یار ومدد بیٹھی ہے بلاول بھٹو زرداری کی بنیادی ذمہ داری ہے کہ انہیں وہاں کے وزیر خارجہ سے بات کرنی چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہمارے وزیراعظم کو عراقی سربراہ مملکت سے بات کرنا چاہیئے مگر پاکستانیوں کو اس عبادت سے محروم رکھا جا رہا ہے اگر اس مسئلے کا حل نا نکالا گیا تو اسلام آباد کی جانب عوامی مارچ کیا جائے گا ۔انہوں نے کہا کہ ایک طرف لوگ سیلاب میں ڈوبے ہیں دوسری طرف لوگوں کا پیسہ عراقی حکومت کے ظلم کے سبب ڈوب رہا ہے افسوس حکومت کو جو کردار ادا کرنا چاہیئے وہ نہیں کر رہی ہے ہم سارے مسلمان ہیں حکومت جلد از جلد اس حوالے سے اقدامات کرے اگر ترکی، ایران، بھارت اور خلیجی ممالک بات کرسکتے ہیں تو پاکستان کیوں نہیں ؟ یہ پاکستان اور پاکستانیوں کی توہین ہے کہ وہ اس طرح کا رویہ روا رکھیں۔


































