
پشین: پاکستانی وزیرِاعظم شہباز شریف اور ایرانی صدر ابراہیم رئیسی نے سرحد پر بارڈر مارکیٹ کا افتتاح کردیا۔ سرحدی مارکیٹ ایرانی علاقے شریف مند اور پاکستانی علاقے پشین کے درمیان قائم کی گئی ہے۔ سرحدی مارکیٹ سے سرحد کے دونوں اطراف روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے۔ پاکستانی وزارتِ خارجہ کا کہنا ہے کہ منڈی بین السرحدی تجارت، معاشی ترقی اور مقامی کاروبار کو فروغ دے گی۔ دونوں ممالک کے درمیان تین نئی تجارتی منڈیاں بھی کھولی جارہی ہیں۔ مارکیٹ کے افتتاح کے بعد دونوں سربراہان نے مَند پشین سرحدی کراسنگ پر بجلی کی ٹرانسمیشن لائن کا افتتاح بھی کیا۔ ٹرانسمیشن لائن سے ایران سے 100 میگا واٹ اضافی بجلی ملے گی۔ پاکستانی وزیرِ اعظم شہباز شریف نے کہا کہ ایران کے ساتھ فری ٹریڈ کو جلد حتمی شکل دیں گے۔ شہباز شریف نےکہا ہے کہ ایران اور پاکستان کے درمیان بجلی اور پٹرولیم کے شعبوں میں بے پناہ گنجائش موجود ہے، 100 میگاواٹ گبد ۔ پولان بجلی ترسیلی منصوبہ پاک ایران تعلقات میں نئے باب کا اضافہ ہے، دونوں ممالک کے عوام اور قیادت کو مل کر دونوں ممالک کی ترقی و خوشحالی کیلئے انقلاب لانا ہوگا، یہ مشکل کام نہیں،بارڈر سیکورٹی میکنزم کو مزید مربوط بنایا جائے تاکہ دونوں ممالک کے عوام کے دلوں میں دراڑ ڈالنے والوں کے عزائم کو خاک میں ملایا جا سکے، صدر سید ابراہیم رئیسی نے اعلان کیا کہ مزید چھ سرحدی مارکیٹیں زیر تعمیر ہیں تا کہ ایران اور پاکستان کے مابین خرد تجارت کا حجم بھی بڑھایا جاسکے جو ایران اور پاکستان کے مابین خوشگوار تعلقات کی علامت اور دو طرفہ روابط کو مستحکم کرنے کی بنیاد ہے۔ انہوں نے اس موقع پر اس نوعیت کے تعاون کو علاقائی استحکام کے لئے اہم قرار دیتے ہوئے غیرعلاقائی طاقتوں کی اس علاقے میں موجودگی کو تباہی کا باعث قرار دیا۔ صدر رئیسی نے کہا کہ علاقے کے مسائل کو خطے کے حکام کے ساتھ بیٹھ کر حل کیا ہے اور کریں گے۔ صدر سید ابراہیم رئیسی نے پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف کے ساتھ مشترکہ نشست کے دوران کہا کہ افتتاح ہونے والے اس منصوبے کے تحت پاکستان کو سو میگاواٹ بجلی برآمد کی جا رہی ہے تاہم اس میں ابھی مزید اضافہ کرنے کی گنجائش موجود ہے۔


































