
اسلام آباد : وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے انکشاف کیا ہے کہ حالیہ سیلاب سے پاکستان کو 10 ارب ڈالر کے نقصان کا اندازہ لگایا گیا ہے۔ ان کے پاس اس وقت معیشت کے ہر شعبے کو درپیش نقصانات کی تفصیلات نہیں ہیں۔ ایک اور سوال پر کہ آیا ملک نے سیلاب سے ہونے والے نقصانات کے ابتدائی تخمینہ پر ڈونرز کو اعتماد میں لیا تو انہوں نے کہا کہ حکومت نے ابھی تک ڈونرز کو اعتماد میں نہیں لیا۔ اسلام آباد عالمی برادری سے مالی امداد کی درخوست کرے گا، پھر حکومت اور عطیہ دہندگان الگ الگ یا مشترکہ طور پر نقصانات کا اندازہ لگا سکتے ہیں اور پھر درست تشخیص کے اعداد و شمار پر مفاہمت کی جائے گی۔ لیکن سب سے پہلے حکومت سیلاب کی حالیہ تباہی میں بے گھر ہونے والے لوگوں کو بچانے کے لیے تمام تر امدادی سرگرمیوں پر توجہ دے گی۔ پھر انسانی جانوں مرنے اور زخمی ہونے والے دونوں افراد کے نقصانات، بنیادی ڈھانچے کے نقصانات، مویشیوں کے نقصانات، زراعت کے شعبے، کاروباری نقصانات اور مکانات کو نقصانات اور دکانوں کے نقصانات وغیرہ کا پتہ لگانے کیلئے نقصان کا صحیح اندازہ لگایا جائے گا۔


































