
واشنگٹن : پاکستانی وزیراعظم شہبازشریف اور وزیر مملکت حنا ربانی کھر کی ایک لیک دستاویز میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ چین اور امریکا کے درمیان پاکستان اب بیچ کا راستہ اختیار نہیں کر سکتا۔ امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ نے عالمی حالات پر ڈسکورڈ لیکس نامی امریکی انٹیلی جنس کی خفیہ جائزہ رپورٹ کے بعض حصے شائع کردئے۔ رپورٹ میں وزیر مملکت حنا ربانی کھر کے پاکستان کیلئے مشکل انتخاب کے عنوان سے ایک میمو کا ذکر کیا گیا جس میں حنا ربانی نے خبردار کیا ہے کہ اسلام آباد مغرب کو خوش کرنے کی ظاہری کوشش بند کر دے۔ کیونکہ امریکا کے ساتھ پاکستان کی شراکت برقرار رکھنے کی جبلت کی قیمت چین کے ساتھ اصل اسٹریٹجک پارٹنرشپ کی صورت میں ادا کرنا ہوگی۔ رپورٹ میں یہ بتایا گیا ہے کہ امریکا کو حنا ربانی کھر کا یہ میمو کیسے ملا۔ 17 فروری کی ایک اور دستاویز میں یوکرین تنازع پر اقوام متحدہ کے ووٹ سے متعلق وزیر اعظم شہباز شریف کی ایک عہدیدار ماتحت کے ساتھ بات چیت کا تذکرہ ہے۔ عہدیدار نے وزیراعظم کو مشورہ دیا گیا کہ اگر روس کیخلاف مغربی قرارداد کی حمایت کی گئی تو پاکستان کا موقف واضح ہو جائے گا اور اس سے پاک روس تعلقات کو نقصان ہوگا۔ 23 فروری کو ووٹنگ میں پاکستان غیرجانبدار رہا تھا۔


































