
اسلام آباد: سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ دھمکی آمیز پیغام پر قومی سلامتی کمیٹی کی ہدایت پر امریکی ناظم الامور کو بلا کر "ڈی مارش” کیا۔ ایک بیان میں شاہ محمود قریشی نے کہا کہ پاکستان ایک آزاد اور خودمختار ملک ہے، کسی ملک کو ہمارے داخلی معاملات میں مداخلت نہیں کرنا چاہیے، فیصلے ہمارے آئین، قانون اور عوامی امنگوں کے مطابق ہونے چاہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی قوم نہیں چاہتی کہ اندرونی معاملات میں کسی قسم کی بیرونی مداخلت ہو، قومی سلامتی کمیٹی کہہ رہی ہے بیرونی مداخلت نامناسب ہے، ڈی مارش کیا جائے، قومی سلامتی کمیٹی کی ہدایت پر امریکی ناظم الامور کو بلا کر "ڈی مارش” کیا۔ شاہ محمود نے مزید کہا کہ ترکی پاکستان کا دوست برادر ملک ہے اور اس نے ہر مشکل وقت میں ہمارا ساتھ دیا، آئین کا ڈھنڈورا پیٹنے والے بتائیں آئین میں کہاں درج ہے لوگوں کے ضمیر خریدے جائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ہندوستان، پاکستان میں ایسی حکومت چاہتا ہے جو ان کے لیے نرم رویہ رکھتی ہو، ہندوستان سے کہا تھا کہ اچھے تعلقات چاہتے ہیں، کشمیریوں کا سودا ہرگز نہیں کریں گے۔


































