
لندن : برطانیہ کی پہلی خاتون مسلم وزیر نصرت غنی نے انکشاف کیا ہے کہ انہیں مسلم عقیدے کے سبب وزارتی ذمہ داریوں سے فارغ کیا گیا تھا۔ حکمران کنزرویٹو پارٹی کی رکن پارلیمنٹ نصرت غنی نے کہا کہ ڈاؤننگ اسٹریٹ میں مسلمانیت کو مسئلہ کے طور پر اٹھایا گیا۔ چیف وہپ نے انہیں بتایا تھا کہ ان کا مسلم عقیدہ دیگر ساتھیوں کو بے چین کر رہا ہے۔ انہوں نے ساکھ اور کیرئیر تباہ ہونے سےخبردار کرنے پر خاموشی اختیار کی۔
کنزرویٹو چیف وہپ مارک اسپینسر نے نصرت غنی کے دعوے کو بے بنیاد اور ہتک آمیز قرار دیا۔ ہاؤس آف لارڈز کی رکن سعیدہ وارثی نے نصرت غنی کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ وقت آ گیا ہے کہ اسلاموفوبیا پر ان کی آواز سنی جائے۔ اپوزیشن لیڈر سر کئیر اسٹارمر نے بھی نصرت غنی سے اظہار یکجہتی کیا اور کہا کنزرویٹو پارٹی کو الزامات کی مکمل اور فوری تحقیقات کرنا ہوں گی۔رکن پارلیمنٹ افضل خان نے کہا کہ ٹوری پارٹی میں ادارہ جاتی سطح پر اسلاموفوبیا واضح ہوگیا۔رکن پارلیمنٹ انس سرور اور میئر لندن صادق خان نے بھی رویے کو ناقابل قبول قرار دیا۔49 سالہ نصرت غنی کو گذشتہ سال فروری میں وزیر ٹرانسپورٹ کے عہدے سے ہٹا دیا گیا تھا۔


































