
تہران: ولی امر مسلمین آیت اللہ خامنہ ای نے کہا ہے کہ امریکا سے بلواسطہ مذاکرات سے متعلق بہت زیادہ پرامید ہیں اور نہ ہی حد سے زیادہ مایوسی کا شکار۔ انہوں نے خبردار کیا کہ مذاکرات بلآخر بے نتیجہ ثابت ہوسکتے ہیں۔ عدلیہ اور مقننہ کے عہدہ داروں سے خطاب میں ولی امرمسلمین نےکہا کہ عمان مذاکرات وزارت خارجہ کے درجنوں کاموں میں سے ایک ہیں۔ ملکی مسائل کو بات چیت سے نہ جوڑیں۔ یہ ایک عمل اور اقدام ہے جس کا فیصلہ کیا گیا ہے اور پہلے مرحلے میں یہ مثبت رہا ہے. بلاشبہ، ہم دوسرے فریق کے بارے میں خوش فہمی کے شکار نہیں ہیں، لیکن ہم اپنی صلاحیتوں کے بارے میں بہت پر امید ہیں۔ انہوں نے عمان مذاکرات کے نتائج کے حوالے سے خوش بینی اور مایوسی سے گریز کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ تمام شعبوں میں اہداف کے حصول کے لیے ملک کی سرگرمیاں زیادہ تیزی کے ساتھ جاری رہنی چاہیئں اور کسی چیز کو مذاکرات کے نتائج سے نہیں جوڑنا چاہیے. انہوں نے کہا کہ ملک میں اچھے قوانین و ضوابط اور ضروری منصوبے موجود ہیں لیکن پیروی کا فقدان اہداف کے قابل قبول حصول میں رکاوٹ ہے۔ انہوں نے توانائی کی بچت کو بنیادی ضرورت قرار دیتے ہوئے زور دیا کہ سب سے پہلے عوام اور حکومتی ادارے کہ جو توانائی کے سب سے بڑے صارف ہیں، انہیں خود کو بچت کرنے کا عادی بنانا چاہیے، اور اس کام کو بھی آگے بڑھانے کی ضرورت ہے۔


































