
ملتان: مجلس وحدت مسلمین کے زیراہتمام پشاور کی امامیہ مسجد میں ہونے والی دہشت گردی کے خلاف چاروں صوبوں سمیت آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں احتجاجی مظاہرے کیے گئے، مظاہروں میں بڑی تعداد میں خواتین، بزرگ، بچے شریک ہوئے، مظاہرین نے پشاور اور کوئٹہ دہشتگردی کو ملت جعفریہ کیخلاف منظم منصوبہ بندی کے ساتھ شیعہ نسل کشی قرار دیتے ہوئے بلوچستان اور خیبر پختونخواہ حکومت کی مکمل ناکامی کی شدید مذمت کی۔ اتوار کو مجلس وحدت مسلمین نے ملک بھر میں احتجاجی مظاہروں کا اعلان بھی کیا ہے، ملتان میں نواں شہر چوک پر علامتی احتجاجی دھرنا دیا۔ دھرنے کے شرکا نے نماز مغربین نواں شہر چوک پر ادا کی۔ جس کے بعد رات گئے تک دھرنا جاری رہا، سی پی او ملتان خرم شہزاد حیدر نے دھرنے کا دورہ کیا اور سیکیورٹی کا جائزہ لیا، احتجاجی دھرنے کی قیادت ایم ڈبلیو ایم جنوبی پنجاب کے سیکریٹری جنرل علامہ اقتدار حسین نقوی، علامہ قاضی نادر حسین علوی، علامہ وسیم عباس معصومی، علامہ غلام مصطفی انصاری، ڈویژنل صدر آئی ایس او ڈاکٹر جوہر عباس نے کی۔ احتجاجی دھرنے میں امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے ممبران سمیت کثیر تعداد میں کارکنوں نے شرکت کی۔ اس موقع پر نواں شہر چوک کو ہمہ قسمی ٹریفک کے لیے بند رکھا گیا، سیکیورٹی کی بھاری نفری تعینات رہی۔
شرکا سے خطاب کرتے ہوئے علامہ اقتدار نقوی نے کہا کہ اس المناک سانحہ کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔ قیمتی انسانی جانوں کا غیر معمولی ضیاع انتہائی افسوسناک ہے۔


































