
ینگون : میانمار میں سول حکومت کا تختہ الٹنے کے بعد فوج کے اقتدار پر قبضہ جمائے ایک سال کے دوران سول احتجاج کرنے وا لے کم از کم 1,500 سے زیادہ افراد ہلاک کر دیے گئے۔ منگل کو جینوا میں اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کی ترجمان روینا شام داسانی نے کہا کہ ان ہلاکتوں کے علاوہ کم از کم 11,787 افراد حراست میں لیے گئے، جن میں سے 8,792 اب بھی قید میں ہیں۔میانمار کی حکمران فوجی جنتا اقوام متحدہ کے اس اندازے کو درست قرار نہیں دیتی، جب کہ شام داسانی کا کہنا ہے کہ یہ وہ لوگ ہیں جو فوجی حکومت کی مخالفت کر رہے تھے۔ انہوں نے ان ہلاکتوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ان میں سے 200سے زیادہ فوج کی تحویل میں تشدد سے ہلاک ہوئے۔ شام داسانی نے کہا کہ ان میں وہ افراد شامل نہیں ہیں جو مسلح تصادم میں ہلاک ہوئے۔ہمارا اندازہ ہے کہ وہ بھی ہزاروں میں ہوں گے۔ گذشتہ روز فوجی حکومت کا ایک سال پورے ہونے پرشہریوں نے خاموش احتجاج کیا۔ شہروں کی سڑکیں سونی پڑی تھیں۔ دکانیں اور کاروبار بند رہے۔


































