
اسلام آباد : مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے وائس چیئرمین علامہ احمد اقبال رضوی نے کہا کہ سیلاب زدگان کی بحالی پوری قوم کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے۔ایم ڈبلیو ایم کی ٹیموں نے متاثرہ علاقوں میں مرکزی و صوبائی عہدیداروں کی سربراہی میں سرگرمیاں شروع کر رکھی ہیں اور جنوبی پنجاب، بلوچستان سمیت سو سے زائد مقامات پر ہمارے کارکنان امدادی کاموں میں شب و روز مصروف ہیں۔متاثرین کو اشیائے خوردونوش کی فراہمی،ان کی محفوظ مقامات تک منتقلی اور طبی سہولیات کی فراہمی سمیت دیگر اہداف پر تیزی سے کام جاری ہے۔ ادھر ایم ڈبلیو ایم کے چیئرمین علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے کہا ہے کہ سیلاب سے ملکی معیشت کو شدید دھچکا لگا ہے۔یہ وقت سیاسی پوانٹ اسکورنگ کا نہیں بلکہ قومی اور انسانی جذبے کے ساتھ متاثرہ خاندانوں کو سہارا دینے کا ہے۔تمام سیاسی و دینی جماعتوں کی یہ اولین ذمہ داری ہے کہ وہ نیک نیتی, خلوص اور لگن کے ساتھ امدادی سرگرمیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں۔ ملک کے 110 اضلاع میں غیر معمولی جانی و مالی نقصان کوئی عام واقعہ نہیں۔ کم وبیش 10 لاکھ مکانات اور عمارتوں کی بحالی کی ذمہ داری صرف حکومت پر نہیں ڈالی جا سکتی۔ دیہی علاقوں میں بہہ جانے والے مویشیوں کی تعداد سات لاکھ سے زائد بتائی جا رہی ہے۔صوبہ سندھ کے23 اضلاع آفت زدہ جبکہ ایک کروڑ 45 لاکھ سے زیادہ آبادی متاثرین میں شامل ہے۔عالمی ذرائع ابلاغ صوبہ بلوچستان کے 34 اضلاع اور 91 لاکھ 82 ہزار سے زیادہ افراد کے سیلاب سے متاثر ہونے کا دعوی کر رہے ہیں۔اس نقصان کی تلافی اس وقت تک ممکن نہیں جب تک ہم ذاتی اختلافات اور رنجشوں کو بالائے طاق رکھ کر خالصتاً مدد کے جذبے سے میدان عمل میں نہیں نکلیں گے۔


































