
لاہور: لاہور ہائیکورٹ نے توہین مذہب سے متعلق کیسز کی تفتیش کیلئے رہنماء اصول وضع کر دیئے۔لاہور ہائیکورٹ نے میانوالی کے شہری کیخلاف گستاخی کا مقدمہ خارج کرنے کا تحریری فیصلہ جاری کردیا۔نصراللہ خان نے خواب میں ہوا میں اڑنے اور اللہ کو دیکھنے کے دعوی پر توہین مذہب کا مقدمہ درج کرایا گیا تھا۔ عدالت نے فیصلے میں قرار دیا کہ کسی شخص کو خواب دیکھنے اور اسے بیان کرنے پر سزا نہیں دی جا سکتی۔ اکثر گستاخی کے ملزمان کی ذہنی حالت ٹھیک نہیں ہوتی۔ تفتیشی افسر پہلے ملزم کی ذہنی حالت درست ہونے کا تعین کرے۔عدالت نے قرار دیا کہ ملکی قانون ذہنی معذوروں کا تحفظ یقینی بنانے کا حکم دیتا ہے۔ ایسا ذہنی معذور ملزم جو اپنا دفاع کرنے کے قابل نہ ہو اس کے خلاف ٹرائل نہیں کیا جا سکتا۔ذہنی مریضوں کو سزا سے بچانا اور انکا علاج ہونا چاہئے۔ عدالت نے رجسٹرار کو ہدایت کی کہ فیصلے کی کاپی آئی جی پنجاب کو بھجوائی جائے۔


































