
جنیوا: اقوام متحدہ کے ادارے یونیسیف کے غذائیت کے شعبے کے ڈائریکٹر انتھونی لیک نے کہا ہے کہ غزہ میں جنگ اور محدود انسانی رسائی کی وجہ سے اس خطے میں خوراک اور ادویات کا نظام مکمل طور پر تباہ ہو گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ غزہ میں 50 ہزار سے زائد بچوں کو غذائی قلت کے باعث فوری علاج کی ضرورت ہے۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ غزہ کی صورتحال بہت ہی بری ہے اور ضروری امداد فراہم کرنے کے لیے حالات اور شرائط ابھی تک دستیاب نہیں ہیں۔ دس لاکھ افراد کو اگست میں خوراک کا کوئی راشن نہیں ملا۔ رفح کراسنگ پر قبضہ کرنے کے بعد قابض فوج انسانی امداد لے جانے والے ٹرکوں کو صرف کرم ابو سالم کراسنگ کے ذریعے غزہ میں داخل ہونے کی اجازت دیتی ہے جو کہ مقبوضہ فلسطینی علاقے میں واقع ہے۔


































