
شامی فوج نے صوبہ حلب میں دہشت گردوں کے بڑے پیمانے پر حملے کو ناکام بنا دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق المیادین نیٹ ورک نے اطلاع دی ہے کہ شامی فوج نے صوبہ حلب میں دہشت گردوں کی بڑے پیمانے پر کارروائیوں کو ناکام بنا دیا ہے۔ تاہم فوج اور دہشتگردوں کے مابین شدید جھڑپیں جاری ہیں۔ المیادین کے مطابق دہشت گردوں کی چار بڑی جارحانہ کارروائیاں، جن کا آغاز "اندان” (حلب سے 12 کلومیٹر شمال مغرب میں) قصبے سے ہونا تھا، شروع ہونے سے پہلے ہی ناکام ہو گیا۔
اسی دوران شام میں روسی مصالحتی مرکز کے نائب سربراہ اولیگ ایگناسیوک نے اعلان کیا کہ شامی فوج نے روسی فضائیہ کے تعاون سے حلب اور ادلب کے صوبوں میں کم از کم 400 دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا ہے۔ ایگناسیوک نے ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ 27 انومبر کی شام 7:50 سے النصرہ فرنٹ دہشت گرد گروپ سے وابستہ مسلح گروپوں نے حلب اور ادلب صوبوں میں شامی حکومت کے زیر کنٹرول علاقوں پر حملہ کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ گزشتہ 24 گھنٹوں میں شامی فوج نے روس کے تعاون سے 4 سو سے زائد دہشتگردوں کو ہلاک کر دیا ہے۔
شامی ذرائع کے مطابق اہم شامی شہر حلب پر حالیہ حملے کے دوران مارے جانے والے مسلح دہشتگردوں کے درمیان درجنوں غیرملکی دہشتگرد بھی موجود ہیں۔ رپورٹ کے مطابق "انصار التوحید” نامی دہشتگرد ٹولے کے مرکزی رہنماؤں میں سے ایک ابوالولید بھی حلب پر حملے کے دوران شامی فوج و مزاحمتی فورسز کے ہاتھوں مارے جانے والے دہشتگردوں میں شامل ہے۔
واضح رہے کہ شامی فوج اس وقت حلب کے مختلف علاقوں میں دہشتگردوں کے خلاف لڑائی میں مصروف ہے۔ روسی خبررساں ایجنسی اسپتنک کے مطابق حلب پر عالمی حمایت یافتہ دہشتگردوں کی حالیہ چڑھائی کے بعد سے شامی فوج کے دسیوں کمانڈو دستوں اور وسیع سازوسامان کو حلب میں تعینات کیا جا چکا ہے۔ روسی خبررساں ایجنسی نے حلب پر حملہ آور دہشتگردوں کے ساتھ لڑائی کو ”شدید” قرار دیتے ہوئے مزید بتایا کہ شامی فوج نے ادلب کے جنوب میں واقع قصبوں البارہ، دیر سنبل اور معربلبیت میں موجود دہشتگردوں کے اہم ٹھکانوں کو بھی نشانہ بنایا ہے۔


































