
اسلام آباد : اسلامی تعاون تنظیم وزرائےخارجہ کونسل کا دو روزہ اجلاس اسلام آباد میں جاری ہے، اجلاس میں مسلم ممالک کے وزرائے خارجہ، مبصرین اور دیگر مہمان شریک ہیں۔ سعودی وزیر خارجہ نے اجلاس کی صدارت باقاعدہ پاکستان کے حوالے کردی۔ او آئی سی وزرائے خارجہ اجلاس کے افتتاحی اور اختتامی سیشن اوپن ہوں گے، ورکنگ گروپس کے بند کمرہ اجلاس ہوں گے جس میں قراردادوں کا جائزہ لیا جائے گا۔ اجلاس میں مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم کی پُرزور مذمت کی جائے گی۔ اجلاس میں افغانستان میں انسانی بحران کی صورتحال بھی زیر غور آئے گی۔ اجلاس میں کشمیر، فلسطین، اسلامو فوبیا، اُمّہ کے اتحاد سمیت 140 قراردادیں پیش ہونگی۔ یمن، سوڈان، لیبیا اور شام کی صورتحال بھی زیر بحث آئے گی۔ عالمی سطح پر دہشتگردی اور تنازعات کا حل کانفرنس کے ایجنڈے میں سرفہرست ہے۔کشمیر پر او آئی سی رابطہ گروپ کے اجلاس میں کشمیریوں پر بھارتی مظالم کی مذمت کی جائے گی، اجلاس میں یکم اگست 2019 کے یکطرفہ بھارتی اقدام کو سختی سے مسترد کیا جائے گا۔ کشمیر پر رابطہ گروپ کی قرارداد کو حتمی اعلامیے میں شامل کیا جائے گا۔کانفرنس میں افغانستان کی شرکت کا خصوصی بندوبست کیا گیا ہے۔ افغانستان سے متعلق گزشتہ خصوصی اجلاس کے فیصلوں پر عملدرآمد کا جائزہ لیا جائے گا۔ اس موقع پر چین، برطانیہ، کینیڈا، جرمنی، آسٹریلیا سمیت کئی اہم ممالک کو بھی مدعو کیا گیا ہے۔صدر پاکستان ڈاکٹر عارف علوی وزرائے خارجہ اور مندوبین کے اعزاز میں عشائیہ دیں گے۔ او آئی سی وزرائے خارجہ اور دیگر کو 23 مارچ کی یوم پاکستان پریڈ بھی دکھائی جائے گی۔


































