
مقبوضہ بیت المقدس : سوشل میڈیا کے مؤثر استعمال میں صیہونیوں کو طویل عرصے تک فلسطینیوں پر برتری حاصل رہی ہے لیکن اب فلسطینی نوجوان اس ہتھیار کا ہوشیاری سے استعمال کرنے لگے ہیں۔ایک رپورٹ کے مطابق اشتعال انگیز مواد پوسٹ کرنے کے صیہونی دعوؤں پر فیس بک، واٹس ایپ، ٹوئٹر اور انسٹاگرام کے سینکڑوں فلسطینی اکاؤنٹس منجمد کیے جا چکے ہیں۔ لیکن فلسطینی ان پابندیوں کے سامنے جھکنے کو تیار نہیں ہیں۔ ان کی بڑی تعداد اب شارٹ ویڈیوز کی مقبول ترین چینی اپلیکیشن ٹِک ٹاک پرمنتقل ہوگئی جو صیہونی حکومت کے غصے میں اضافے کا باعث بن رہا ہے۔ ٹک ٹاک نے فلسطینیوں کے متعدد اکاؤنٹس کی بند کرنے کی صیہونی درخواستوں کو مسترد کیا جن پر صیہونی حکومت نے اشتعال انگیز مواد پوسٹ کرنے کا الزام عائد کیا تھا۔ حالانکہ فیس بک ان الزامات کی بنیاد ہر بہت سارے اکاؤنٹس کو بند کر چکی ہے۔ واضح رہے کہ حالیہ دنوں میں غزہ کی پٹی اور مشرقی یروشلم میں پیدا ہونے والی صورتحال میں ٹک ٹاک ایک مؤثر ہتھیار کی صورت میں سامنے آئی ہے۔ اس اپلیکشن پر فری فلسطین مسلسل ٹرینڈ کرتا رہا ہے۔


































