
اسلام آباد: عدالت عالیہ میں لاپتہ افراد کی بازیابی کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس نے کہا ہے کہ لاپتہ افراد کمیشن اپنی ذمے داری پوری کرنے میں ناکام رہا۔اسلام آباد ہائی کورٹ میں 8 سال سے لاپتا زاہد امین اور ایک برس سے لاپتا صادق امین کی بازیابی کی درخواست پر سماعت ہوئی، جس میں درخواست گزاروں کی جانب سے ایڈووکیٹ ایمان مزاری عدالت کے سامنے پیش ہوئیں۔ چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیے کہ یہ عدالت بار بار کہہ چکی ہے جبری گمشدگی سنگین جرم اور آئین کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ عدالت آنکھیں بند نہیں کر سکتی ۔ پٹیشنرز شہری ہیں، کمیشن کی ڈیوٹی ہے کہ لاپتا افراد کے اہلخانہ تک خود پہنچے کمیشن لاپتہ افراد کے اہل خانہ کے ساتھ ٹھیک طریقے سے پیش نہیں آرہا۔ آپ ان کے گھروں کو جائیں۔ کمیشن کو ہدایت کی جاتی ہے کہ وضاحت کرے کیوں مؤثر اور قابل ذکر ایکشن نظر نہیں آرہا؟۔ کمیشن رپورٹ جمع کرائے کہ پروڈکشن آرڈر پر عمل نہ کرنے پر ذمے داروں کے خلاف کاروائی کے لیے کیوں نہیں لکھا؟ ۔


































