Fri Oct 09, 2026

حالیہ جنگوں میں فورسز کا امن و امان قائم رکھنے میں کردار بے مثال رہا، ولی امر مسلمین ترکیہ کا فوجی دستے سعودیہ بھیجنے سے انکار، مکہ معاہدہ پارلیمنٹ میں لایا جائیگا، وزیرخارجہ انصار اللہ کے حملے میں سعودی طیارہ تباہ اسرائیل کو ایران پر ممکنہ حملے کیلئے تیار رہنے کی ہدایت ایران کے حملوں کے بعد امریکی فوج نے کویت کا اہم اڈہ خالی کر دیا بھارت پاکستان میں دہشت گردی کیلئے طالبان کی مدد کر رہا ہے: جواد اجمل شام کا سعودی عرب کی درخواست پر یمن میں فوج بھیجنے پر غور پیوٹن کا ایران کی تاریخی اور غیر معمولی ثابت قدمی کا خیرمقدم ایران کی لبنان میں جنگ کے متاثرین کیلئے حزب اللہ کو 20 کروڑ ڈالر کی امداد ڈی جی آئی ایس پی آر کی سعودی عرب میں فوجی تعیناتی کی تصدیق فرانس میں طلبہ مظاہرین پر پولیس تشدد، تہران میں فرانسیسی سفیر کی طلبی امام بارگاہ کی مبینہ بے حرمتی کا معاملہ، ایم ڈبلیو ایم کا ملوث عناصر کی گرفتاری کا مطالبہ اسرائیلی ڈرون حملے اور فائرنگ، 4 فلسطینی شہید، 20 سے زائد زخمی آبنائے ہرمز کھلی رہے گی یا بند، اس کا فیصلہ ٹرمپ کی کھوکھلی پوسٹس نہیں کریں گی ریاض میں ایئرپورٹ پر حملے، 3 افراد ہلاک، 36 زخمی

روزانہ کی خبریں

مظلومیت کے عالم میں انصاراللہ یمن کی فوجی برتری

تحریر: حسین فاطمی

یمن آرمی نے اعلان کیا ہے کہ اس نے حال ہی میں الضیہ بندرگاہ کے قریب ایک ایسے آئل ٹینکر کو نشانہ بنا کر اسے وہاں سے بھاگنے پر مجبور کر دیا ہے جو یمن کا تیل چوری کرنے کی نیت سے اس بندرگاہ پر لنگرانداز ہونے کا ارادہ رکھتا تھا۔ یمن فوج کا یہ اقدام خوف کا توازن برقرار رکھنے کی کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔ اس بارے میں یمن کی مسلح افواج کے ترجمان یحیی سریع نے صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا: "یمن فوج ایک ایسے آئل ٹینکر کو بھگانے میں کامیاب ہوئی ہے جو جنوب میں واقع الضیہ بندرگاہ کے قریب آیا تھا تاکہ بڑی مقدار میں ہمارا تیل چوری کر سکے۔ اس آئل ٹینکر نے ہماری فورسز کی جانب سے دی گئی وارننگز کو نظرانداز کیا تھا۔ دشمن بعض اقدامات انجام دینے کی کوشش میں تھا اور ہم نے مناسب جواب دیا ہے۔”

یحیی سریع نے مزید کہا: "یمن کی مسلح افواج اپنے قومی قدرتی ذخائر کی حفاظت جاری رکھیں گی تاکہ ان سے حاصل ہونے والی آمدن تمام یمنی شہریوں تک پہنچ سکے اور ملک بھر میں تمام اہلکاروں کی تنخواہ ادا کی جا سکے۔” گذشتہ ہفتے یمن کے صوبہ حضرموت میں ایک میڈیا ذریعے نے خبر دی تھی کہ ایک مسلح ڈرون طیارے نے المکلا شہر کے مشرق میں واقع الضیہ بندرگاہ میں ایک آئل ٹینکر کو نشانہ بنایا تھا۔ اس رپورٹ کے مطابق یہ آئل ٹینکر تیل حاصل کرنے کی غرض سے الضیہ بندرگاہ آیا تھا جہاں آنے کے بعد اسے نشانہ بنایا گیا۔ میڈیا ذریعے نے خبر دی ہے کہ اس حملے کے بعد الضیہ بندرگاہ میں تمام سرگرمیاں روک دی گئی ہیں۔ المیادین نیوز چینل نے خبر دی ہے کہ یہ آئل ٹینکر تیل حاصل کئے بغیر وہاں سے واپس لوٹ گیا ہے۔

انصاراللہ یمن نے اعلان کیا ہے کہ وہ اکتوبر کے آغاز میں ختم ہو جانے والی اس جنگ بندی پر بدستور کاربند ہے جو اقوام متحدہ کی جانب سے اعلان کی گئی تھی۔ انصاراللہ نے سعودی عرب کی سربراہی میں جارح عرب اتحاد پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ یمن کے جزائر میں فوجی سازوسامان اور اسلحہ منتقل کر رہا ہے۔ یمن کی قومی حکومت کے وزیر دفاع محمد ناصر العاطفی نے کہا کہ یمن گذشتہ جنگ بندی پر کاربند ہے اور مدمقابل کی جانب سے بارہا اس جنگ بندی کی مخالفت کرنے کے باوجود کم از کم تناو کی پالیسی پر گامزن ہے۔ انہوں نے کہا کہ جارح عرب اتحاد کی جانب سے فوجی سرگرمیاں ظاہر کرتی ہیں کہ انہوں نے جنگ بندی کی آڑ میں یمن کے خلاف جارحانہ اقدامات تیز کر دیے ہیں۔

محمد ناصر العاطفی نے کہا کہ جارح سعودی اتحاد کا اصل مقصد جنگ کو طولانی کرنا ہے تاکہ وہ یمن کے قدرتی ذخائر کی لوٹ مار جاری رکھ سکیں اور اپنے قبضے میں یمن کی بندرگاہوں اور جزیروں کو سیاسی اور اقتصادی مقاصد کیلئے استعمال کر سکیں۔ انہوں نے مزید کہا: "یمن کی قومی حکومت منصفانہ اور آبرومندانہ امن کے قیام کیلئے ہر ممکنہ کوشش کرنے کیلئے تیار ہے جبکہ دوسری طرف امریکی، سعودی اور اماراتی اتحاد کی جانب سے ہر قسم کے جارحانہ اقدام کا جواب دینے کیلئے بھی مکمل تیاری رکھتی ہے۔” گذشتہ ماہ کے آخر میں اقوام متحدہ کی جانب سے چھ ماہ پر مشتمل جنگ بندی کے اختتام پر پہلی بار انصاراللہ اور جارح عرب اتحاد میں مسلح جھڑپیں انجام پائی ہیں۔ یمن کی وزارت خارجہ نے بھی عالمی برادری کے نام اپنے پیغام میں اس بات پر زور دیا ہے کہ جارح عرب اتحاد نے یمن کے خلاف ممنوعہ ہتھیاروں کا استعمال کیا ہے۔

یمن کی وزارت خارجہ نے سلامتی کونسل، انسانی حقوق کی کونسل، اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل اور یمن کیلئے اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی کے نام اپنے پیغام میں کہا: "جارح عرب اتحاد کی جارحیت اور محاصرے کے نتیجے میں یمن کے بچے مسلسل آٹھ برس سے قتل و غارت، جلاوطنی اور بیماریوں کے خطرات سے روبرو ہیں۔ سعودی اتحاد میں شامل ممالک دنیا کی آنکھوں کے سامنے ہر قسم کے ممنوعہ ہتھیاروں کا استعمال کرنے میں مصروف ہیں۔” اس پیغام میں مزید کہا گیا ہے: "اگرچہ اقوام متحدہ نے یمن کے بحران کو جدید دور کا بدترین انسانی سانحہ قرار دیا ہے لیکن اس کے باوجود کوئی عملی اقدام انجام نہیں دیا۔ جارح سعودی اتحاد کی جارحیت، محاصرے اور مزدوروں کی تنخواہیں ہڑپ کر جانے کے نتیجے میں 60 لاکھ بچوں کی تعلیم خطے میں پڑ چکی ہے۔”

اس پیغام میں مزید کہا گیا ہے: "عرب جارح اتحاد نے صحت کے 51 مراکز کو نشانہ بنایا ہے جس کے یمنی شہریوں خاص طور پر بچوں اور خواتین کیلئے بھیانک نتائج ظاہر ہوئے ہیں۔ یمن کا محاصرہ اب تک 12 ہزار سے زائد یمنی بچوں کی جان لے چکا ہے کیونکہ ان کے علاج معالجے کیلئے ضروری ادویات برآمد نہیں ہو سکیں۔ ہم عالمی برادری سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ جارح سعودی اتحاد کی جانب سے یمنی بچوں کے خلاف انجام پانے والے مجرمانہ اقدامات کی مذمت کریں اور اس محاصرے کو ختم کر کے اس کے ذمہ داران کے خلاف عدالتی کاروائی کریں۔ افسوس کا مقام ہے کہ اقوام متحدہ نے نہ صرف یمنی بچوں کے خلاف انجام پانے والے جرائم سے چشم پوشی اختیار کر رکھی ہے بلکہ قاتلوں کو انعام بھی دے رہی ہے اور عرب اتحاد کا نام بچوں کے حقوق کی خلاف ورزی کرنے والوں کی فہرست سے نکال دیا گیا ہے۔”

[DISPLAY_ULTIMATE_SOCIAL_ICONS]

مزید پڑھیے

Most Popular