
رکن اسلامی نظریاتی کونسل پاکستان علامہ ڈاکٹر محمد حسین اکبر نے چیئرمین اسلامی نظریاتی کونسل ڈاکٹر قبلہ ایاز کی سربراہی میں کینیڈین ہائی کمیشن اسلام آباد میں او آئی سی کے اڑتالیسویں اجلاس میں حکومت کینیڈا کے مندوب رضوان جدوت فرسٹ اسسٹنٹ سیکریٹری سائوتھ ایشیاء میری ٹائم ڈویژن کیساتھ خصوصی ملاقات کی۔ اس موقع پر آسٹریلین ہائی کمیشن کے فرسٹ سیکریٹری مائیکل کورٹف اور برائس ہو چیسن چارج ڈی افیئرز اے آئی اور دیگر ذمہ داران بھی موجود تھے۔ جبکہ وفد میں اسلامی نظریاتی کونسل کے ممبران نسیم علی شاہ اور صاحبزادہ حسیب الرحمن شامل تھے۔ اسلامی نظریاتی کونسل میں شیعہ رکن علامہ ڈاکٹر محمد حسین اکبر نے شیعیان پاکستان کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے بانی حضرت قائداعظم محمد علی جناح شیعہ تھے، پاکستان میں شیعہ مسلمانوں کی آبادی پچیس سے تیس فیصد ہے۔
علامہ محمد حسین اکبر نے حکومت آسٹریلیا کیجانب سے کوئٹہ کے ہزارہ شیعہ مہاجرین کو پناہ دینے ان کو تمام تر سہولتیں مہیا کرنے، پشاور میں شیعوں پر نماز جمعہ کے دوران حملہ اور ان کی شہادت پر حکومت آسٹریلیا کی مذمت اور اظہار ہمدردی اور آج کی ملاقات کیلئے وقت فراہم کرنے پر شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ بطور انسانی حقوق کے علمبردار آپ کی یہ بھی ذمہ داری ہے کہ یمن کے مظلوموں پر ظلم و جور کو بند کریں اور مفلوک الحال بھوک و پیاس سے دوچار یمنی مسلمانوں کی مدد کریں۔ علامہ محمد حسین اکبر نے کہا کہ آج پاکستان میں اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ کی 48 ویں کانفرنس افغانستان اور کشمیر کے مظلوموں اور مفلوک الحال مسلمانوں کی مدد کیلئے منعقد ہورہی ہے جو لائق صد تحسین ہے اور یہ اس حکومت کا عظیم کارنامہ ہے لیکن کاش اس میں یمن، شام اور دیگر تباہ حال اسلامی ممالک کے عوام کی حالت زار کو بھی ایجنڈہ میں شامل کیا جاتا۔
علامہ محمد حسین اکبر نے کہا کہ پاکستان کے دوست اور محسن ملک سعودی عرب کے حکمرانوں کی طرف سے سعودیہ کے مشرقی علاقوں میں شیعوں پر ظلم و زیادتی اور نابالغ بچوں تک کے سروں کو قلم کرنا، وہاں کے باسیوں کے پر عرصہ حیات تنگ کرنا عالمی ضمیر کو جھنجھوڑنے کیلئے کیا کافی نہیں؟۔ ٹھیک ہے ان کا داخلی معاملہ ہوگا لیکن انسانی حقوق کے تحفظ کے علمبرداروں کو توجہ نہیں کرنی چاہیے؟۔
علامہ محمد حسین اکبر نے آسٹریلیا میں شیعہ مسلمانوں پر حملوں کا تذکرہ اور ان کی روک تھام کی سفارش کرتے ہوئے حکومت آسٹریلیا سے مطالبہ کیا کہ ان کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے جس کے جواب میں ہائی کمشنر اور معزز مہمان نے بتایا کہ ہم نے حملہ آوروں کو سخت سزائیں دی ہیں اور ان کی سخت نگرانی کی جا رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ آسٹریلیا کی 50 فیصد آبادی دوسرے ممالک سے آئے ہوئے لوگ ہیں۔ آسٹریلیا میں چھ صدیاں پہلے مسلمان آئے، انہوں نے کہا کہ میں خود سنی مسلمان ہوں میری بیوی شافعی مسلمان ہے، ہمارا داماد ایرانی شیعہ ہے، مسلمان ہونے کی وجہ سے مجھے اسلامی ممالک بالخصوص سعودی عرب، بحرین اور جہاں کی اکثریت شیعہ مسلمان ہیں بھیجا جاتا ہے۔


































