
کراچی: کربلا میں حضرت امام حسین علیہ السلام اور ان کے ساتھیوں کی عظیم قربانیوں کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کے لئے ملک بھر میں یوم عاشور مذہبی عقیدت و احترام سے منایا گیا، اہلبیت پر ڈھائے گئے مظالم کیخلاف کراچی،لاہور، پشاور ،کوئٹہ سمیت مختلف شہروں میں جلوس نکالے گئے، جلوسوں سے پہلے مجالس عزا ہوئیں جس میں علمائے کرام اور ذاکرین نے حضرت امام حسین (ع) کی تعلیمات اور سانحہ کربلا کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالی، جس کے بعد کے تمام شہروں اور قصبوں میں ماتمی جلوس برآمد ہوئے اور اپنے مقررہ راستوں سے ہوتے ہوئے اپنی منازل اپنی اپنی منزل پر پہنچ کر اختتام پذیر ہوئے، کراچی میں مرکزی جلوس نشتر پارک سے برآمد ہوا، شرکا نے نماز ظہرین تبت سینٹر پرادا کی، جلوس اپنے مقررہ راستوں نمائش چورنگی، سی بریز، ایمپریس مارکیٹ، ریگل چوک، تبت سینٹر، ریڈیو پاکستان، بولٹن مارکیٹ، لائٹ ہاوس کھارادر سے ہوتا ہوا حسینیہ ایرانیاں پر اختتام پذیر ہوا،جلوسوں میں عزاداران امام حسین نے ماتم اور نوحہ خوانی کرتے ہوئے شہدائے کربلا پر ڈھائے گئے مظالم کو اجاگر کیا، جلوسوں کے راستوں پر دودھ اور شربت کی سبیلیں قائم کی گئیں، نذر و نیاز کا بھی اہتمام کیا گیا ، کورونا وائرس کو پھیلنے سے روکنے کے لئے ماتمی جلوسوں کے لئے احتیاطی تدابیر بھی اختیار کی گئیں، جلوسوں کی حفاظت کے لیے انتہائی سخت انتظامات کیے گئے تھے اور متعدد شہروں میں جلوس کی گزرگاہوں میں موبائل فون سروس بند رہی اور موٹر سائیکل کی ڈبل سواری پر بھی پابندی عائد رہی۔


































