
کراچی : چین۔ روس۔ پاکستان – مصر اور ترکیہ سمیت دنیا کے بیشتر ممالک نے اسماعیل ہنیہ کے قتل کی مذمت کی ہے۔
پاکستانی دفترخارجہ کا کہنا ہےکہ اسرائیل کی تازہ ترین کارروائیاں پہلے سے ہی عدم استحکام کا شکار خطے میں ایک خطرناک اضافہ ہے۔ مصری وزارت خارجہ نے کہاہے کہ ثابت ہوگیا کہ اسرائیل کا جنگ بندی کو کوئی ارادہ نہیں ہے۔
چین کی وزارت خارجہ کے ترجمان لن جیان نے کہاہے کہ یہ واقعہ علاقائی عدم استحکام کا باعث بن سکتا ہے۔ غزہ میں جلد از جلد ایک جامعہ اور مستقل جنگ بندی کی جانی چاہیے۔ کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے خبردار کیا ہے کہ ہنیہ کا قتل مشرق وسطیٰ کو مزید غیر مستحکم کرسکتا ہے۔ قطر کے وزیراعظم شیخ محمد بن عبدالرحمٰن الثانی نے کہا ہے کہ غزہ جنگ بندی کے مذاکرات کو خطرہ پہنچ سکتا ہے۔ عراقی وزارت خارجہ نے کہاہےکہ کارروائی بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ ترک صدر رجب طیب اردوان نے کہاہےکہ اس قتل سے فلسطینیوں کا عزم کمزور نہیں ہوگا اور صیہونی بربریت اپنے مقاصد حاصل نہیں کرسکے گی۔ جرمن دفترخارجہ نے فریقین سے تحمل کی اپیل کی ہے۔
حزب اللہ نے کہا ہے کہ اسماعیل ہنیہ کے قتل سے تحریک مزاحمت مزید تیز ہوگی۔ یمن کی انقلابی حکومت نے بھی قتل کی مذمت کی ہے اور اسماعیل ہنیہ کے خون کا انتقام لینے کا اعلان کیا ہے۔


































